بھٹو کے قتل پرامریکہ میں ہلچل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل پر نیویارک میں رہنے والے پاکستانیوں اور امریکی رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رد عمل کے طور پر بش انتظامیہ نے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے اقتدار سے سبکددوش ہوجانے اور پاکستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے جیسے مطالبات بھی کر ڈالے ہیں۔ امریکہ کی ریاست کے گورنر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنما بل رچرڈسن نے صدر بش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر مشرف پر ان کے عہدہ صدارت سے الگ ہوجانے اور ان کی جگہ ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کے لیے دباو ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیویارک میں پاکستانیوں کے کاروباری اور رہائشی علاقوں ’جیکسن ہائیٹس‘ اور’ کونی آئلينڈ ایونیو‘ پر سوگ کا ماحول رہا جبکہ کئی خواتین اور مردوں کو روتے بھی دیکھا گیا۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کم از کم ایک درجن سے زائد پاکستانیوں کا ایک ہی سوال تھا کہ’یہ سب کیا ہورہا ہے؟‘ جمعرات کی شام ’ایشین امریکن اگینسٹ ابیوز آف ہیومن رائيٹز‘ یا ’ انا‘ اور پاکستان ’یو ایس فیریڈم فورم‘ کی جانب سے منی پاکستان کہلانے والے کونی آئلینڈ پر بینظیر بھٹو کے قتل کے خلاف ’وجل منظم‘ کیا گیا جس میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انا کی نمائندگی بازہ روحی نے اور پاک یوایس فریڈم فورم کی شاہد کامریڈ نے کی۔ لاس اینجلس سے جماعت احمدیہ کے ترجمان امام شمشاد ناصر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں رہنے والے احمدی کمیونٹی کے لوگوں کو بینظیر بھٹو کے بہیمانہ قتل پر شدید صدمہ پہننچا ہے۔ مقامی امریکی میڈیا نے جمعرات کی شب نیو میکسیکو کے گورنر اور صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق امیدوار بل رچرڈسن کا بیان شائع اور نشر کیا ہے۔ بیان میں انہوں نے صدر بش سے کہا ہے کہ صدر مشرف پر دباو ڈال کر انہیں اقتدار سے الگ ہونے کو کہیں اور پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ایک وسیع البنیاد حکومت قائم نہ ہونے تک پاکستان کو دی جانےوالی فوجی امداد فوری طور پر بند کی جائے۔ بل رچرڈسن نے کہا کہ وسیع البنیاد حکومت پاکستان میں آئندہ آٹھ جنوری کے انتخابات کو یقینی بنائے۔ نیویارک کے سابق میئر اور ریپلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار رڈی جولیانی نے ایک پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’بینظیر بھٹو جیسی لیڈر کا پاکستان میں قتل یہ یاد دلاتا ہے کہ تل ابیب ہو نیویارک ہو کہ راولپنڈی ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے اور ہم سب اس کے خلاف مسلسل جنگ میں ہیں۔‘ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے حوالے سے کئی رہنماؤں کے بیان امریکی میڈيا تمام دن نشر کرتی رہی جن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں جان ایڈورڈ اور بارک اوبامہ بھی شامل ہیں۔ بارک اوبامہ نے کہا کہ’ اگر میں امریکہ کا صدر ہوتا تو صدر مشرف کو بینظیر بھٹو کے قتل اور اس کے بعد کی صورتحال کو بہانہ بناتے ہوئے ایک اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی مخالفت کرتا۔‘ جان ایڈورڈ نے کہا کہ وہ اپنے پارٹی کے گورنر بل رجرڈسن کے بیان سے متفق نہیں ہیں کیونکہ کانگرس پہلے ہی پاکستان کو فوجی امداد کے بل میں اصلاحات کرچکی ہے۔’لیکن ہمیں ان کروڑہا ڈالروں کا حساب کتاب لینا چاہیے جو دہشت گردی کی جنگ سے زیادہ مشرف کی ذات پر خرچ ہوئے ہیں۔‘ جان ایڈورڈ نے کہا کہ کچھ برس قبل بینظیر سے ان کی ملاقات ابوظہبی میں جمہوریت پر ایک کانفرنس میں ہوئی تھی۔’ اس وقت بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کو خون سے سینچا جاتا ہے اور آج انہوں نے پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری عمل کے لیے بہادری سے یہ ثابت کر دکھایا ہے۔‘ امریکی سینیٹ میں خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جو بائيڈن نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے اکتوبر کے آخر میں انہیں ایک خط لکھ کر اپنی سیکورٹی کے متعلق خدشات ظاہر کیے تھے اور کہا تھا کہ مشرف حکومت انہیں مطلوبہ سکیورٹی مہیا کرانے میں ناکام رہی ہے۔ بائيڈن نے کہا کہ انہوں نے خود جنرل پرویز مشرف کو خط لکھا تھا لیکن زبانی جمع خرچ کے علاوہ ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بھٹو کی سابق حکومت کے مشیر اطلاعات حسین حقانی نے ایک امریکی ٹی وی چینل پر کہا کہ راولپنڈی شہر میں سب سے زیادہ سیکیورٹی ہوتی ہے اور وہاں بینظیر بھٹو کے قتل ہوجانے سے حکومت کی سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لازمی ہیں۔ بقول ان کے مشرف اور ملک کو کنٹرول کرنے والی ملٹری انٹیلیجنس کو اس بارے میں جوابات ضرور دینے پڑیں گے۔‘ | اسی بارے میں بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک27 December, 2007 | پاکستان انتخابات کا بائیکاٹ: نواز شریف27 December, 2007 | پاکستان سندھ: ہنگامے، املاک نذر آتش 27 December, 2007 | پاکستان الیکشن پر فیصلہ ابھی نہیں: کابینہ28 December, 2007 | پاکستان پنجاب میں نماز جنازہ اور احتجاج28 December, 2007 | پاکستان سندھ: ہنگامے، فوج کو الرٹ28 December, 2007 | پاکستان اب یہ علم کون اٹھائےگا؟28 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||