انتخابات کا بائیکاٹ: نواز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سیاسی رہنماؤں نے بینظیر بھٹو کے قتل پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا۔ پاکستان کے کچھ سیاسی رہنماؤں نے بینظیر بھٹو کے قتل پر یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پرویز مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے کہا کہ یہ محض غم کا دن نہیں، ہ یہ تاریک ترین دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں قوم کے غم میں شریک ہوں۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا‘۔ انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’سندھ کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے‘۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی کنوینر محمود خان اچکزئی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت حوالے سے تحریک کا احتجاجی پروگرام معطل کرکے کل یعنی جمعہ کے روز یوم سیاہ شٹر ڈاؤن اور سوگ کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کونسل کے نام سے ادارہ قائم ہے جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ملک بندوقوں اور توپوں کی گھن گرج سے نہیں چلتے بلکہ عوام کی حمایت سے ملک میں حکومت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل سے ملک کی بنیادیں ہل گئی ہیں اور اب انھیں خوف محسوس ہو رہے، خوف زندگی کا نہیں بلکہ اس ملک کی بقاء کا خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اس ملک کی فکر کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب انتخابات کیسے اور کونسی اسمبلیاں‘۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں صدر پرویز مشرف کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قتل کی جوابدہی ان کے ذمہ ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پرویز مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے قتل پر جمعہ کو ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر بے نظیر بھٹوکے غمزدہ خاندان اور پارٹی لیڈرشپ اور کارکنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے ذمہ داروں کو دعوت دی ہے کہ وہ ملک و قوم کو بچانے کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر صدر مشرف کو ہٹانے کی کوشش کریں اور اس صدمے کو قوت میں تبدیل کرنے کا عزم کریں جس میں ملک و قوم کی بہتری ہو۔ تحریک انصاف کے رہنماء عمران خان نے کہا ہے کہ بینظیر کا قتل موجودہ حکمرانوں پر آتا ہے اور حکومت کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بھی صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر اور مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کو ایک سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پرامن سیاسی فضا کو تباہ کیا جارہا ہے اور اس پر تمام سیاسی قوتوں کو غور کرنا ہوگا۔ | اسی بارے میں بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک27 December, 2007 | پاکستان بھٹو کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج27 December, 2007 | پاکستان 2007ء کیسا رہا27 December, 2007 | پاکستان ہنگامے، توڑ پھوڑ، غم و غصے کی لہر27 December, 2007 | پاکستان یہ ٹارگٹ کلنگ ہے: بابر اعوان27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||