پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی موت ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نتیجہ ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو اپنی سکیورٹی کے بارے میں بہت فکرمند تھیں اور آج جلسے کے دوران بھی انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بابر اعوان نے کہا کہ وہ صبح بینظیر بھٹو کے ساتھ ہی جلسے میں گئے تھے۔ ’’ جلسہ گاہ میں ہم اکھٹے بیٹھے رہے۔ ہم ساتھ ہی ان کے گھر سے آئے تھے۔ وہ بتاتی رہیں کہ انہیں کیا خطرات در پیش ہیں۔ انہوں نے کچھ تفصیلات بھی مجھے دیں جو میں ابھی نہیں بتا سکتا۔ جب ہم جلسے میں بیٹھے ہوئے تھے تب بھی محترمہ نے مجھے کچھ چیزیں لکھ کر دیں۔ وہ اس بارے میں بہت فکرمند تھیں۔ جب ہم نکلے تو دو گاڑیاں تھیں۔ اگلی گاڑی میں میں بیٹھا، رحمان ملک اور فرحت اللہ بابر اور پچھلی گاڑی میں محترمہ بیٹھیں۔۔۔ وہ کھڑی ہوئیں اپنے مداحوں کو ویو کرنے کے لیے (ہاتھ ہلانے کے لیے) تو پہلے ان پر شارپ شوٹنگ ہوئی، اور پھر بم کا دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد پولیس نے ہمیں وہاں سے نکال دیا۔۔۔ یہ ٹارگیٹڈ کلنگ تھی، ہم کیوں اسے خواہ مخواہ اور کوئی (نام دیں)۔ جس طرح شہید قائد عوام کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، اس کے لیے طریقہ کار مختلف اختیار کیا گیا، اسی طرح سے محترمہ کو بھی آج ٹارگٹ کر کے مارا گیا۔ ان کی گردن میں گولی لگی اور بعد میں ان کی گاڑی پر کچھ مواد بھی پھینکا گیا۔۔۔لاکھوں لوگوں نے دیکھا کہ انہوں نے دو مرتبہ مجھے چٹ لکھ کر دی اور وہ اپنی سکیورٹی کے بارے میں بہت فکرمند تھیں۔ ہم ان کی ہلاکت کے لیےانہی عناصر کو ذمہ دار سمجھتے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کا باعث تھے، ہم کسی اور کو مورد الزام کیوں ٹھہرائیں۔‘‘ |