BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 December, 2007, 14:38 GMT 19:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک

پاکستان واپسی کے بعد سے بینظیر کی سکیورٹی پر مسلسل تشویش تھی

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ جمعرات کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان کے انتخابی جلسے پر حملہ کیا گیا۔ راولپنڈی کے جنرل ہسپتال کے باہر پی پی پی کے رہنما بابر اعوان نے بتایا کہ حملے میں بینظیر بھٹو انتقال کرگئی ہیں۔ حملے کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں جنرل ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن انہیں نہیں بچایا جاسکا۔

وزارت داخلہ نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ خودکش حملے میں زخمی ہوئیں یا انہیں گولی مارکر ہلاک کیا گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت پانچ گولیاں بھی چلی تھیں جن میں سے ایک ان کی گردن میں لگی تھی۔

اس حملے میں پی پی پی کی رہنما شیری رحمان اور ناہید خان بھی زخمی ہوئی ہیں۔ ہسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکن جمع ہیں اور غم و غصے کا ماحول ہے۔ اس حملے میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک اور متعدد ہوئے ہیں۔

بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ دبئ سے پاکستان پہنچ رہے ہیں اور بینظیر کی ہلاکت کی خبر پر اس وقت تک یقین نہیں کرسکتے جب تک وہ خود نہ دیکھ لیں۔

حملے سے قبل انتخابی ریلی سے بینظیر خطاب کرتی ہوئیں
پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے افسوس ظاہر کیا ہے اور صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے بینظیر بھٹو پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ’قوم کے غم‘ میں شامل ہیں۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے انتخابی سرگرمیاں معطل کردی ہیں اور سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ الطاف حسین نے واقعہ کو سانحہ قرار دیتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق بینظیر بھٹو کے سینے اورگلے میں گولیاں لگیں تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان پر فائرنگ کی گئی اور ریلی میں دھماکہ بھی کیا گیا۔ لیکن حالات واضح نہیں ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو صرف زخمی ہیں۔

سندھ: غم و غصہ، توڑ پھوڑ
کراچی میں ہمارے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کی اطلاع پہنچتے ہی کراچی میں تمام بازار اور دکانیں بند ہوگئیں اور رات دیر تک کھلے رہنے والے بازاروں میں اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ پورے شہر میں خوف و دہشت کی فضا ہے۔ سڑکوں پر بھگدڑ کی سی فضا ہے اور ٹریفک بھی بے ہنگم ہوگیا ہے۔

ایسا لگ رہا ہے جیسے لوگ حواس باختہ ہوگئے ہیں۔ وہ سڑکیں جو یکطرفہ ٹریفک کے لئے ہیں وہاں دونوں اطراف سے گاڑیاں آجانے سے صدر سمیت کئی علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہے جبکہ ٹرانسپورٹ گاڑیاں بھی غائب ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ کئی علاقوں میں پھنس گئے ہیں۔

دوسری طرف شہر کے کئی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ لیاری، کھارادر، سلاوٹ پاڑے، گرومندر، ڈیفنس، کلفٹن،گلشن اقبال اور گلشن حدید سمیت دیگر کئی علاقوں میں ہوائی فائرنگ ہو رہی ہے۔

مشتعل لوگوں کے ہجوم سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں جو دیوانہ وار نعرے لگارہے ہیں۔ پتھراؤ کر رہے ہیں اور ٹائروں کو آگ لگا رہے ہیں۔ سب سے جذباتی منظر لیاری میں ہے جو جہاں خواتین بھی سڑکوں پر نکل کر سینہ کوبی اور بین کررہی ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر میں جابجا ایسی افراتفری ہے جیسے عام طور پر زلزلے یا کسی دوسری قدرتی آف کے بعد نظر آتی ہے۔ شہر کے تشدد زدہ علاقوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ مشتعل لوگ سرکاری املاک اور گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور انہوں نے بعض گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔

صوبہ سرحد میں توڑ پھوڑ
پشاور میں ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ملک کے دیگر حصوں کی طرح پشاور میں بھی بینظیر کی ہلاکت کی خبر پہنچتے ہی مختلف علاقوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور توڑ پھوڑ کی۔

پشاور میں جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر پی پی پی کے سینکڑوں کارکن جمع ہیں اور سڑک بند کر کے وہاں احتجاج کر رہے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق جی ٹی روڈ پر بعض مشتعل افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگائی اور سڑک پر نصب درجنوں سائن بورڈ اور گاڑیوں کے شیشے توڑے۔ پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کےلئے لاٹھی چارج اور انسو گیس کے گولے فائر کیے۔

ادھر اس واقعہ کے بعد شہر کے زیادہ تر تجارتی مراکز بند ہوگئے ہیں اور لوگ گھروں کی طرف بھاگنے لگے۔ شہر کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی ترسیل معطل ہے۔

غیرملکی حکومتوں کا ردعمل
امریکی حکومت نے بینظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس حملے سے پاکستان میں مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ روس کی حکومت نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس حملے سے دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

فرانس نے بینظیر پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ’قابل نفرت فعل‘ ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے بینظیر بھٹو پر حملے کی مذمت کی۔ وزیر خارجہ ڈیوِڈ ملیبینڈ نے پاکستان میں ’تحمل اور یکجہتی‘ کی اپیل کی ہے۔

بینظیر بھٹو پر کراچی میں اٹھارہ اکتوبر پاکستان واپسی پر ایک استقبالیہ ریلی میں خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان واپسی کے بعد سے ان کی سکیورٹی پر مسلسل تشویش پائی جارہی تھی۔

2007ء کیسا رہا
اس سال خود کش حملے معمول بن گئے
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
’کارساز‘ تحقیقات
بینظیر’خود کش‘ حملے بھی موٹی فائل میں بند؟
کارساز تحقیقات
حکومت اور پی پی پی کے درمیان ڈیڈلاک
مرتے دم تک ساتھ
’کچھ بھی ہو بینظیر کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘
بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
بھٹو، مشرفمفاہمت کو خطرہ
بینظیر اور جنرل مشرف میں بڑھتی مخاصمت
اسی بارے میں
بینظیر کی سکیورٹی پر تشویش
14 December, 2007 | پاکستان
’خصوصی پولیس فورس نامنظور‘
23 December, 2007 | پاکستان
برطرف ججز کی حمایت سے انکار
13 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد