2007ء کیسا رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے لیے سال دو ہزار سات آئینی، قانونی اور سیاسی اعتبار سے تو بھاری رہا ہی لیکن امن عامہ کی صورتحال بھی انتہائی تشویش ناک رہی۔خودکش حملے تو جیسے روز کا معمول بن گئے جو حکومت کے لیے ایک بڑا درد سر ثابت ہوئے۔ پاکستان نےافغانستان کو اس برس خودکش حملوں کی تعداد کے اعتبار سے بھی پیچھے ضرور چھوڑ دیا۔خودکش حملوں کو روکنے میں حکومت سال کے اوئل کی طرح اب بھی بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ سال کا پہلا خود کش حملہ تو شمالی وزیرستان کے میر علی علاقے میں ہوا لیکن ایک اندازے کے مطابق ملک میں اس طرح کے تقریباً باون سے زائد خودکش حملوں میں چھ سو سے زائد افراد جانیں کھو چکے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان حملوں کے اہداف بھی واضع ہوتے چلے گئے۔ پہلے پہل اگر پولیس زیر عتاب تھی تو سال کے اختتام تک اس کا ہدف فوج اور صدر مشرف کے آفتاب شیرپاؤ اور امیر مقام جیسے ساتھی بن گئے۔ نگران وفاقی وزیر داخلہ حامد نواز ان حملوں کا الزام انتہا پسند عناصر پر عائد کرتے ہوئے کہتتے ہیں کہ شیرپاؤ کےگاؤں سے علاقہ غیر چند کلومیٹر کی دوری پر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک کے تمام خودکش حملوں میں تقریباً ایک جیسا مواد استعمال ہوتا ہے اور اس کے پیچھے انتہا پسند عناصر ہی ہیں۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ ان پر قابو پانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے تشویش میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود سمجھے جانے والے انتہا پسندی کا جن وہاں سے نکل کر صوبہ سرحد کے بنوں، ٹانک اور سوات جیسے شہری خطوں میں پھیلنے لگا۔اور تو اور انتہا پسندی کا مسئلہ ملک کے انتظامی دل اسلام آباد تک بھی پہنچا۔ لال مسجد کا تنازعہ جنوری میں مدرسہ حفصہ کی طالبات کی جانب سے حکومت کے مساجد گرانے کے منصوبے کے خلاف بطور احتجاج ایک سرکاری لائبریری پر قبضے سے ہوا۔ جنرل مشرف کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایک اور دھچکہ چند روز بعد شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان کا دس ماہ پرانے امن معاہدے کے خاتمے کے اعلان سے ہوا۔اس علاقے کی عوام نے جو سکھ چین کا سانس لیا تھا وہ دوبارہ پارہ پارہ ہوگیا۔
مقامی طالبان اور حکومت کے عوامی حمایت سے متعلق دعوؤں کے برعکس خراب امن عامہ کی وجہ سے عوام الناس تشویش میں لاحق ضرور ہے۔اسلام آباد کے ایک رہائشی محمد اکرم کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کے برعکس بتری ہی آئی ہے۔ ’کوئی ماہ ایسا نہیں رہا جس میں دو تین خودکش حملے نہ ہوئے ہوں۔‘ اس عوامی تشویش میں اضافہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے خاتمے کے فورا بعد وادی سوات میں وفاقی حکومت کی جانب سے مزید سکیورٹی فورسز کی تعیناتی سے بھی ہوا۔ ایم ایم اے حکومت سوات میں شدت پسندوں کی موجودگی سے انکار کرتی رہی تھی لیکن اس کے حکومت کے آخری ایام میں مقامی شدت پسند مولانا فضل اللہ کی قیادت میں متحرک ہونا شروع ہوئے اور کئی علاقوں پر قبضٰہ کرلیا۔
اسی سال تیس اگست کو جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کی جانب سے دو سو سے فوجیوں کے بغیر گولی چلے اغوا نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ تین فوجی کے علاوہ جنہیں مقامی طالبان نے ہلاک کر دیا تھا باقی تمام بات چیت کے نتیجے بعد میں رہا ہوئے۔ لیکن کیا ایسے واقعات اور فوج پر حملے اس کے مورال پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟ پاکستان فوج کے سابق وائس آرمی چیف جنرل کے ایم عارف کہتے ہیں کہ مورال پر تو شاید اتنا اثر نہ پڑا ہو لیکن فوج کی نیک نامی پر دھبہ ضرور لگا ہے۔ ’پہلے فوج کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن اب اس پر کڑی تنقید بھی ہو رہی ہے۔’ کے ایم عارف کی تجویز ہے کہ فوج جتنا جلد سیاست سے دور ہو جائے اتنا بہتر ہے۔ ’یہ فوج، ملک، سیاست اور عدلیہ کے لیئے بھی بہتر ہے کہ آئین کے مطابق ان کے لیے جو کردار تعین کیا گیا ہے وہ اس تک محدود رہے۔‘ فوجی آمر ضیاالحق کے نائب رہنے والے جنرل کے ایم عارف کا کہنا تھا کہ سوات جیسے مسائل کا حل اگر سیاسی طریقے سے نکالا جائے تو بہتر ہوگا۔ حکومت نے ایک نئے منصوبے کے تحت اب فوج کی جگہ نیم فوجی ملیشیا کو زیادہ ذمہ داریاں دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس سے بظاہر قبائلی بھی خوش دکھائی دیتے ہیں لیکن ابھی بظاہر یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے۔
صوبہ سرحد کے ٹانک سے لے کر دیر تک علاقوں میں ویڈیو شاپس، حجاموں اور لڑکیوں کے سکولوں کو دھمکی آمیز خطوط کے ذریعے پہلے پیغام اور بعد میں بموں کے ذریعے سزایں دینے کا عمل تمام برس جاری رہا۔ کہیں پولیس کو کامیابی بھی ہوئی لیکن یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ شدت پسند اگرچہ سال کے اوئل کے برعکس بیک فٹ پر دکھائی دے رہے ہیں لیکن پہلی مرتبہ مختلف علاقوں میں سرگرم شدت پسند ایک تنظیم کی صورت میں منظم بھی ہوئے ہیں جس سے حکومتی تشویش میں اضافہ یقینی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||