’خودکش حملے اور ہمسایہ ملک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئے اے نے کہا ہے کہ ملک میں اس سال اب تک بتیس خود کش حملے ہوئے ہیں اور کم سے کم دس حملوں میں استعمال ہونے والی آستینیں ایک ہمسایہ ملک کی ایک ہی فیکڑی میں بنائی گئی تھیں۔ لیکن وفاقی ادارے نے ملک کا نام بتانے سے گریز کیا۔ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکڑ جنرل طارق پرویز نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال میں پاکستان بھر میں بتیس خود کش حملوں کے واقعات پیش آئے جن میں دس واقعات میں حملے کے لئے گاڑی، ایک میں موٹر سائیکل اور دیگر میں جیکٹ اور بیلٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ فیکڑی ایک ہمسایہ ملک کی ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں ان کو فراہم کرنے والا ایک ہی شخص ہے‘۔ انہوں نے ملک کا نام نہیں بتایا۔ طارق پرویز کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں پولیس ہی بتاسکتی ہے۔ ایف آئی اے معلومات اکٹھی کر کے پولیس کی تحقیقات میں مدد کرتا ہے اور اس کو یہ کام بھی سونپا گیا ہے کہ یہ پتہ چلائے کہ ان واقعات میں استعمال ہونے والا پیسہ کہاں سے آتا ہے۔اس غرض کے لئے اس ادارے میں ایک خصوصی تحقیقاتی گروپ بنایا گیا ہے اور اس میں سینتیس افسر کام کرتے ہیں۔ تاہم ڈائریکڑ جنرل کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں عملہ ضرورت سے بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم مستقبل میں اس خصوصی تحقیقاتی گروپ کو وسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس میں تین الگ الگ شعبے قائم کرنا چاہتے ہیں جن میں انٹیلیجنس شعبے کےعلاوہ تحقیقات کرنے اور انتہا پسندوں کو پکڑنے کے لئے شعبے ہوں گے تاکہ ہم خود ہی معلومات اکٹھی کر کے دہشت گردوں کو پکڑ سکیں‘۔ | اسی بارے میں ’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘19 October, 2007 | پاکستان پشاور: وزیر کے گھر حملہ، چار ہلاک09 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی ریلی میں دو دھماکے، 125 افراد ہلاک18 October, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان راولپنڈی :خود کش حملہ، 7 ہلاک30 October, 2007 | پاکستان خود کش حملے کا مقدمہ درج31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||