BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 00:33 GMT 05:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خودکش حملے اور ہمسایہ ملک‘

خودکش حملہ(فائل فوٹو)
رواں سال میں پاکستان بھر میں بتیس خود کش حملوں کے واقعات پیش آئے
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئے اے نے کہا ہے کہ ملک میں اس سال اب تک بتیس خود کش حملے ہوئے ہیں اور کم سے کم دس حملوں میں استعمال ہونے والی آستینیں ایک ہمسایہ ملک کی ایک ہی فیکڑی میں بنائی گئی تھیں۔ لیکن وفاقی ادارے نے ملک کا نام بتانے سے گریز کیا۔

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکڑ جنرل طارق پرویز نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال میں پاکستان بھر میں بتیس خود کش حملوں کے واقعات پیش آئے جن میں دس واقعات میں حملے کے لئے گاڑی، ایک میں موٹر سائیکل اور دیگر میں جیکٹ اور بیلٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔

حملوں کے پیچھے کون؟
 ’یہ فیکڑی ایک ہمسایہ ملک کی ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں ان کو فراہم کرنے والا ایک ہی شخص ہے
طارق پرویز
طارق پرویز نے کہا کہ ’جیکٹوں اور بیلٹوں میں اسڑائکڑ سلیوز یا خصوصی آستینیں استعمال کی جاتی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ’ کم سے کم دس حملوں میں استعمال ہونے والی خصوصی آستینیں ایک جیسی ہیں اور وہ ایک ہی ملک میں ایک ہی فیکڑی میں بنائی گئی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ فیکڑی ایک ہمسایہ ملک کی ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں ان کو فراہم کرنے والا ایک ہی شخص ہے‘۔ انہوں نے ملک کا نام نہیں بتایا۔

طارق پرویز کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں پولیس ہی بتاسکتی ہے۔

ایف آئی اے معلومات اکٹھی کر کے پولیس کی تحقیقات میں مدد کرتا ہے اور اس کو یہ کام بھی سونپا گیا ہے کہ یہ پتہ چلائے کہ ان واقعات میں استعمال ہونے والا پیسہ کہاں سے آتا ہے۔اس غرض کے لئے اس ادارے میں ایک خصوصی تحقیقاتی گروپ بنایا گیا ہے اور اس میں سینتیس افسر کام کرتے ہیں۔

تاہم ڈائریکڑ جنرل کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں عملہ ضرورت سے بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم مستقبل میں اس خصوصی تحقیقاتی گروپ کو وسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس میں تین الگ الگ شعبے قائم کرنا چاہتے ہیں جن میں انٹیلیجنس شعبے کےعلاوہ تحقیقات کرنے اور انتہا پسندوں کو پکڑنے کے لئے شعبے ہوں گے تاکہ ہم خود ہی معلومات اکٹھی کر کے دہشت گردوں کو پکڑ سکیں‘۔

اسی بارے میں
خود کش حملے کا مقدمہ درج
31 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد