BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 October, 2007, 08:08 GMT 13:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راولپنڈی :خود کش حملہ، 7 ہلاک

راولپنڈی بم دھماکہ
دھماکے کے نتیجے میں فوجی افسر کی رہائشگاہ کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا
پاکستان کے شہر راولپنڈی میں کچہری چوک کے قریب پولیس چوکی پر ہونے والے ایک خود کش حملہ میں سات افراد ہلاک اور ایک خاتون سمیت چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بظاہر اس خود کش حملے کا نشانہ پولیس کی چوکی تھی۔


تاہم موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں رہائش گاہ کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ حملہ آور کا سر رہائش گاہ کے اندر موجود درخت سے ملا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ خودکش حملہ آور انیس سے تیئس برس کے درمیان عمر کا لمبے بالوں والا اور صاف رنگت کا آدمی تھا۔ تاہم اس کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔

اس سے قبل راولپنڈی پولیس کے سربراہ سعود عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک پیدل خود کش حملہ آور پولیس چوکی پر قائم رکاوٹ توڑ کر آگے بڑھا تو ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اکرم نے اُسے روکا جس پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔سعود عزیز نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے خود کش بمبار کی ٹانگیں ملی ہیں۔

دھماکے میں دو اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ’ریسکیو 1122‘ کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مرنے والوں میں فوج کی مجاہد فورس کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔

جہاں حملہ ہوا ہے وہ عام علاقہ ہے:ترجمان وزارتِ داخلہ

راولپنڈی کا یہ علاقہ خاصا حساس ہے کیونکہ وہاں اقوام متحدہ کے ’ملٹری آبزرورز‘ کا دفتر اور فوج کے دفاتر بھی ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی رہائش گاہ آرمی ہاؤس بھی دھماکے کے مقام سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

واضح رہے کہ سوات میں حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے انٹیلی جنس کی معلومات کی بنا پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں خود کش حملوں سے بچاؤ کے لیے سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی تھی۔وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق’جہاں حملہ ہوا ہے وہ عام علاقہ ہے وہاں ہر ایک شخص کی تلاشی نہیں لی جا سکتی‘۔

انہوں نے اس حملے کا تعلق سوات سے جوڑنے سے بھی انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ’وہاں روایتی آپریشن نہیں ہو رہا اور سکیورٹی ایجنسیاں صرف امن عامہ برقرار رکھ رہی ہیں‘۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ راولپنڈی کا بم دھماکہ انہیں نو نومبر کو راولپنڈی کے جلسۂ عام سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے تاہم وہ اپنے مقررہ پروگرام کے تحت راولپنڈی ضرور جائیں گی۔ کراچی میں بینظیر بھٹو نے راولپنڈی بم دھماکے کا حوالے سے کہا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ اللہ کے سواہ کسی سے نہیں ڈریں گی۔

یاد رہے کہ یہ خود کش حملہ راولپنڈی میں گزشتہ دو ماہ میں ہونے والا تیسرا خودکش دھماکہ تھا۔ اس سے قبل چار ستمبر کو راولپنڈی چھاؤنی میں یکے بعد دیگرے دو خودکش حملوں میں ستائیس افراد ہلاک اور چھیاسٹھ زخمی ہوگئے تھے۔ یہ دونوں دھماکے شہر میں فوج کے ہیڈکواٹر جی ایچ کیو کے قریب ہوئے تھے۔

پشاور دھماکہپشاور بم دھماکہ
کار بم دھماکے میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں
بم دھماکےتصویروں میں
راولپنڈی کینٹ میں خود کش بم دھماکے
ٹریفک پولیس نشانہ
گوجرانوالہ میں بم دھماکہ، پانچ زخمی
حملہ اور دھماکہ
حب میں دھماکہ، ہنگو میں خودکش حملہ
اسی بارے میں
ہلاک شدگان کی تعداد 27 ہوگئی
05 September, 2007 | پاکستان
پنڈی خودکش حملے، 25ہلاک
04 September, 2007 | پاکستان
آرمی میس کے نزدیک بم بر آمد
04 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد