پشاور میں دھماکہ، اٹھارہ زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے مصروف ترین علاقے صدر چھاونی میں سنیچر کی صبح ایک کار بم دھماکے میں اٹھارہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پشاور کے ڈی آئی جی عبدالمجید مروت نے جائے وقوعہ پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ گیارہ بجکر پندرہ منٹ پر ایک الٹو کار میں ہوا جو ایک غیر ملکی اے بی این ایمرو اور عسکری کمرشل بینکوں کی مقامی شاخوں کے سامنے کھڑی کی گئی تھی ۔ان کے مطابق دھماکے میں’ٹائم ڈیوائس‘ استعمال کی گئی جس میں آٹھ سے دس کلو دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم اٹھارہ افراد معمولی زخمی ہوگئے ہیں جنہیں ابتدائی طبی امداد کے لیے سی ایم ایچ اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور بقول ان کے کئی زخمیوں کو مرہم پٹی کرانے کے بعد فارغ کردیا گیا ہے۔ دھماکے کی وجہ سے آس پاس کھڑی تین گاڑیاں مکمل طور تباہ جبکہ چار کو جزوی نقصان پہنچا ہے اور تقریباً ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر واقع زیادہ تر دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ جس کار میں بم نصب کیا گیا تھا دھماکے کی شدت کی وجہ سے اس کے حصے ہو گئے اور زمین میں ایک گڑھا بھی بن گیا۔ ایک عینی شاہد بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے ایک گاہک کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے کہ انہوں نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی اور اس دوران انہوں نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق’دھماکے کی وجہ سے ہمارے بینک کے شیشے ٹوٹ گئے اور میں نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا اور ان میں سے کئی افراد زمین پر بکھرے شیشوں پر گرنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے جن میں دوخواتین بھی شامل تھیں۔‘ ڈی آئی جی عبدالمجیشد مروت کا کہنا تھا کہ بم دھماکے کے ذمہ دان کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگااور بقول ان کے پولیس کے لیے ہر سڑک یا گلی کی حفاظت کرنا کافی مشکل ہے۔ تاہم ان کے مطابق پشاور میں ماضی میں ہونے والے بم دھماکوں سے تعلق کے شبہے ایک گینگ کو پکڑا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دھماکے کو سردست قبائلی علاقے کی صورتحال سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس اور فوج کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور انہوں نے علاقے کو جانے والے دونوں داخلی راستوں کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ بم ڈسپوزل ٹیم نے موقع پر پہنچ دھماکے کے شواہد اکھٹے کرنا شروع کردیئے۔ واضح رہے کہ پشاور میں حالیہ دھماکہ تقریباً دو ماہ کے وقفے کے بعد ایک ایسے حساس علاقے میں ہوا ہے جہاں فوجی چھاونی، ملکی اور غیر ملکی بینکوں کی مقامی شاخیں، بڑے بڑے شوروم اور کاروباری مراکز واقع ہیں اور یہاں پر صبح کے وقت لوگوں کا رش زیادہ ہوتا ہے۔ پشاور میں گزشتہ دو سالوں سے پولیس موبائل پر حملوں، بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں اعلی پولیس افسران سمیت درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں سوات: دو حملوں میں تین ہلاک31 August, 2007 | پاکستان دھماکے:’اب انتخابی مہم مشکل‘04 September, 2007 | پاکستان اکثر ہلاک شدگان محکمۂ دفاع کے04 September, 2007 | پاکستان پنڈی خودکش حملے، 25ہلاک04 September, 2007 | پاکستان ہلاک شدگان کی تعداد 27 ہوگئی05 September, 2007 | پاکستان کراچی میں دھماکہ، متعدد زخمی06 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||