BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 November, 2007, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: وزیر کے گھر حملہ، چار ہلاک

سرحد میں کسی وفاقی وزیر پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد کسی بھی وفاقی وزیر پر رواں سال کے دوران ہونے والا دوسرا خوکش حملہ ہے۔
پشاور کے حیات آباد علاقے میں وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر پر ہونے والے خودکش حملے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

جس وقت خود کش حملہ ہوا اس وقت وہاں پاکستان مسلم لیگ (ق) کا ایک اجلاس جاری تھا۔ وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام اس وقت گھر پر موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔

خود کش حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سابق رکن سرحد اسمبلی پیر محمد خان بھی شامل تھے جو وفاقی وزیر امیر مقام کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔

پشاور پولیس کے سربراہ عبدالمجید مروت کے مطابق خود کش حملے وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر کے اندر ہوا۔ ان کے مطابق وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے خود کش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو زبردست دھماکے سے اڑا دیا۔

ہلاک ہونے والوں میں خود کش حملہ آور کے علاوہ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار، فرنٹیئر پولیس کے ایک سپاہی اور ایک ایف سی کا جوان شامل ہیں۔

شانگلہ سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے امیر مقام نے بعد میں حکومتی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور انہیں پاکستان مسلم لیگ کا صوبائی صدر بنایا گیا۔

خود کش حملے کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے

امیر مقام
وفاقی وزیر امیر مقام
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ وہ اسی وقت نگران وزیر اعلیٰ شمس الملک، وفاقی وزیر آفتاب شیرپاؤ اور بین الصوبائی رابطہ کے وزیر سلیم سیف اللہ کے ساتھ میٹنگ کر کے واپس گھر پہنچے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوگیا۔

’جب ہم نے آواز سنی تو ادھر دیکھا تو اندر سے سارے شیشے وغیرہ سارے ٹوٹ گئے اور ہمارے ساتھ جو اندر لوگ تھے ان میں سے تین چار گر پڑے تھے تو پھر جب ہم باہر آئے، باہر نکلے تو یہاں یہ لاشیں بھی پڑی تھیں جو ہمارے سکیورٹیز کے لوگ تھے، اہلکار تھے اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔ یہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعضاء بکھرے ہوئے پڑے ہیں۔‘

واقعہ کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور آس پاس کے راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔ عبدالمجید مروت نے یہ نہیں بتایا کہ حملے میں کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ تاہم ان کے بقول پولیس نے خودکش حملہ آور کے جسم کے ٹکڑے جائے وقوعہ سے حاصل کر لیے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام کا تعلق صوبہ سرحد کے سوات سے متصل ضلع شانگلہ سے ہے۔ سوات میں گزشتہ دو ہفتوں سے مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز ایک دوسرے کے ساتھ بر سر پیکار ہیں۔ فریقین کے درمیان مصالحت کرنے کے لیے انہوں نے کئی بار کوشش بھی کی تاہم بحیثیت وفاقی وزیر طالبان کی نظر میں ان کا کردار ہمیشہ ہی مشکوک رہا ہے۔

سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے نائب امیر مولانا شاہ دوران نے چند دن قبل ایف ایم چینل پر تقریر کے دوران کہا تھا کہ اگر امیر مقام نے اپنا ’ قبلہ‘ درست نہیں کیا تو ایک دن ان کی قبر پر بھی لوگ فاتحہ پڑھنے آجائیں گے۔ تاہم طالبان کے ترجمان سراج الدین نے حالیہ حملے میں ملوث ہونے سے انکا ر کیا ہے البتہ ان کے بقول اس قسم کے واقعات جنرل پوریز مشرف کی
’مغرب زدہ‘ خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔

صوبۂ سرحد میں وفاقی وزیر آفتاب احمد خان شیر پاؤ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد کسی بھی وفاقی وزیر پر رواں سال کے دوران ہونے والا دوسرا خوکش حملہ ہے۔

’عام سی ڈی پر نہیں‘
’جہادی مواد پر مشتمل سی ڈیز پر پابندی ہے‘
نجم الحسن’فرار کا معجزہ‘
طالبان کی قید سے فرار ہونیوالے سپاہی کی کہانی
نقل مکانی(فائل فوٹو)’کوئی مدد نہیں کرتا‘
میر علی سے نقل مکانی کرنے والے شخص کا بیان
رابطوں کا فقدان
اتنی بڑی تعداد میں فوجی کس طرح پکڑے گئے؟
اسی بارے میں
فوجی قافلے پر حملہ، 20 ہلاک
25 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد