BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 05:00 GMT 10:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: فوجیوں کی رہائی ’متوقع‘

فائل فوٹو: فوجیوں کو مقامی طالبان کی جانب سے سخت چیلنج ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سےاغواء کیے جانے والے تین سو کے قریب سکیورٹی فوسز کے اہلکاروں کے اغواء کے دو مہینے اور چار دن پورے ہونے کے بعد حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان مذاکرات ’کامیاب‘ ہوگئے ہیں۔

درے محسود قبائل کا مزاکراتی جرگہ آج اتوار کو ایک بار پھر بیت اللہ محسود گروپ کے مقامی طالبان سے ملنے کے لیے ٹانک سے لدھا روانہ ہوگا اور جرگہ کے طالبان رہنماؤں سے ملنے کے بعد اہلکاروں کی رہائی متوقع ہے۔

دوسری جانب حکومت نے کمانڈر عبداللہ محسود کے چچازاد بھائی سہل زیب سمیت اٹھائیس قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ سہل زیب کو انسداد دہشتگردی کے عدالت نے چوبیس سال قید بامشقت کی سزابھی سنائی تھی اور دوسروں کے خلاف عدالت میں مقدمات چل رہے تھے۔

جرگے کے ایک ممبر سنیٹر صالح شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے درے محسود قبائل کا جرگہ آج ایک بار پھر ٹانک سے لدھا روانہ ہو رہا ہے جہاں وہ مقامی طالبان سے ملے گا۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی متوقع ہے۔صالح شاہ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی رہائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے، اب صرف وہاں جانا ہے۔

اٹھائیس قیدی رہا
 حکومت نے کمانڈر عبداللہ محسود کے چچازاد بھائی سہل زیب سمیت اٹھائیس قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ سہل زیب کو انسداد دہشتگردی کے عدالت نے چوبیس سال قید بامشقت کی سزابھی سنائی تھی اور دوسروں کے خلاف عدالت میں مقدمات چل رہے تھے۔
دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے بدلے حکومت نے بیت اللہ محسود کے ان اٹھائیس ساتھیوں کو رہا کردیا ہے جن کا وہ مطالبہ کر رہے تھے۔ ڈیرہ سنٹر جیل کے ایک اعلی افسر نے سہل زیب، امجداللہ، عبدالقادر، جمشد گنڈہ پور، حضرت اللہ، عصمت اللہ اور عبدالسلام کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ٹانک سے دو خودکش جیکٹس سمیت دھماکہ خیزمواد رکھنے والے ملزم سہل زیب کو چوبیس سال قید بامشقت اور پچاس ہزار جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کے جج فیاض اللہ نے سہل زیب کے کیس کا فیصلہ سناتے وقت بتایا تھا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید دو سال قید گزارنی ہوگی۔

سہل زیب کے والد عالم زیب نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’میرا بیٹا ناسمجھ ہے، نامعلوم افراد نے اس کو ٹانک میں ایک سوٹ کیس دیا تھا کہ اس کو فلاں جگہ پہنچاؤ۔‘ عالم زیب کے مطابق ان کو یہ علم نہیں تھا کہ اس میں خودکش جیکٹس اور بارودی مواد موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے بیٹے کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ وہ اسی دن امتحان کے داخلے کے لیے ٹانک کالج جارہا تھا۔وہ ٹانک کالج میں فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کے کیس کے سلسلے میں ہائی کورٹ جاؤں گا۔

سہل زیب کو آٹھ مارچ دو ہزار سات کو ٹانک پولیس نے تھانہ ٹانک کے حدود میں اس وقت گرفتار کیا تھاجب اس کے بیگ سے دو خودکش جیکٹس اور دھماکہ خیز مواد برامد ہوا۔ عالم زیب کمانڈر عبداللہ محسود کا چچازاد بھائی ہے۔

یادرہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کی امید اور طالبان کے ساتھیوں کی رہائی ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب ملک میں صدر جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے اور نجی چینل کی نشریات معطل ہوچکی ہیں۔

سوات ہلاکتیں
ایف سی کے قافلے پر حملے میں کئی ہلاک
فرنٹ لائن پر
ٹانک میں تعینات پاکستانی فوجی
 عسکریت پسندوں کی چندہ مہمسوات میں چندہ مہم
سوات میں عسکریت پسندوں کی مالی مدد
اہلکار یرغمال
سوات میں فوجی آپریشن پر سوال
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
سوات میں غیر ملکی
’ابھی وہ یہاں نہیں آئے مگر آ سکتے ہیں‘
نیوز ویک کی متنازع اشاعت کا ٹائٹلپاکستان کہتا ہے
نیوز ویک کی رپورٹ جھوٹ پر مبنی ہے۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد