عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، مینگورہ، سوات |  |
 | | | سوات سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ایک خاندان |
ضلع سوات کے بےگناہ شہری سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین جاری رہنے والی شدید لڑائی کی قیمت ادا کرتے ہوئے نہ صرف بڑی تعداد میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں بلکہ انکے ساتھ ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ انہیں نقل مکانی کرنے کے سلسلے میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت سولہ لاکھ سے زیادہ آبادی والے ضلع سوات کے سات تحصیلوں میں سے طالبان کے زیادہ زیر اثر تین تحصیلوں کبل، مٹہ اور خوازہ خیلہ کے علاقے شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں جسکے نتیجے میں ان علاقوں کے تقریباً چھ لاکھ سے زیادہ افراد براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ خوازہ خیلہ، مٹہ، چہار باغ، کبل، گلی باغ، منگلور، ساندڈہ، کوزہ بانڈہ اور امام ڈھیرئی کے عام باسی گزشتہ سات روز سے سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کی جانب سے داغے جانے والے بھاری ہتھیاروں یعنی راکٹ لانچروں، توپ و مارٹر گولوں اور گن شپ ہیلی کاپٹر کی جانب سے کی جانے والی بمباری کی زد میں ہیں جسکے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد بے گناہ افراد ہلاک یا زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ طالبان کے زیر کنٹرول جنگ زدہ علاقوں سے سوات کے صدرمقام مینگورہ سے متصل فضاءگٹ اور کانجو کےداخلی راستوں سے درجنوں گاڑیوں اور ٹرکوں پر سوار بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد سوار پناہ لینے کی غرض سے اپنے رشتہ داروں کے ہاں یا آس پاس کے علاقوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔  |  بعض ایسی گاڑیاں بھی نظر آتی ہیں جنکی ڈگیوں میں کئی چھوٹے بچوں کو ٹھونسا گیا ہے جبکہ گاڑی کے اندر جگہ کی تنگی کی وجہ سے خواتین ایک دوسرے کے اوپر بیھٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔ آبائی وطن چھوڑنے والے یہ لوگ تیار فصلیں جبکہ بچے سکول چھوڑ کر ایسی جگہوں پر آباد ہونے کے لیےجارہے ہیں جہاں پر گھروں اور روز گار کی عدم دستیابی نے انکے مستقبل پرایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔  |
بعض ایسی گاڑیاں بھی نظر آتی ہیں جنکی ڈگیوں میں کئی چھوٹے بچوں کو ٹھونسا گیا ہے جبکہ گاڑی کے اندر جگہ کی تنگی کی وجہ سے خواتین ایک دوسرے کے اوپر بیھٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔ آبائی وطن چھوڑنے والے یہ لوگ تیار فصلیں جبکہ بچے سکول چھوڑ کر ایسی جگہوں پر آباد ہونے کے لیےجارہے ہیں جہاں پر گھروں اور روز گار کی عدم دستیابی نے انکے مستقبل پرایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔دو دن کی غیرسرکاری جنگ بندی کے بعد جمعرات کے روز کی شدید جھڑپوں کے بعد عینی شاہدوں کے مطابق سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے تھے مگر انکی منتقلی کے لیے سرکاری تو دور کی بات کرایہ کے لیے پرائیویٹ گاڑیاں بھی دستایاب نہیں تھیں جسکی وجہ سے بچے، بوڑھے اور خواتین بے سروسامانی کے عالم میں کئی کئی کلومیٹر پیدل طے کرتے ہوئے کالام اور مینگورہ کی طرف جارہے تھے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ رٹ بحال کرنے کے لیے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف طاقت استعمال کی جا رہی ہے تاکہ وہاں پر طالبان کے ہاتھوں مبینہ طور پر یرغمال لوگوں کو نجات دلائی جاسکے تاہم لوگوں کی بڑی تعداد میں علاقہ چھوڑنے کے عمل کے شروع ہوجانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت نےکاروائی سے قبل یا اس کے دوران بے گناہ شہریوں کونشانہ بنانے سے بچانے یا پھرانہیں محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کے لیے پہلے سے کیوں ایک مربوط اور عملی پالیسی تشکیل نہیں دی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد میں ہجرت کے بعد یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ اگر سکیورٹی فورسز علاقے سے طالبان کا خاتمہ کردیتی ہیں اور اس صورت میں حکومت کی رٹ بحال بھی ہوجاتی ہے تو پھراس وقت یہ سوال اٹھے گا کہ عام شہریوں کی عدم موجودگی کی صورت میں علاقے کا ایک صحرا میں بدل جانے کے بعد حکومتی رٹ کس کے لیے بحال سمجھی جائے گی اور اسکے ساتھ حکومت کو اس تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کہ اس نے علاقے سے مشتبہ شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ وہاں سےشہریوں کا بھی تقریباً صفایا کردیا۔ دوسری طرف ہزاروں لوگوں کی ہجرت کے بعد لوگوں کا ضلع سوات کے دیگر علاقوں میں آباد ہونے کے بعد ان علاقوں کی پہلے سے ناکافی سہولیات اور کمزور انفراسٹرکچر پر ضرورت سے زیادہ بوجھ پڑ جائے گا اور اسکے علاوہ بے روز گاری میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے جسکے نتیجے میں سماجی برائیوں اور جرائم میں اضافے کا خدشہ بھی ہے۔ بعض مبصرین حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ بےگھر ہونے والے خاندانوں کو بسانے اور انہیں ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لیے عارضی طور پر خیمہ بستی قائم کرنے کا جو کام کاروائی شروع کرنے سے قبل کرنا چاہیئے تھا وہ سات روز گزرنے کے بعد بھی صرف مقام کے تعین تک کیا جاسکا ہے۔ ضلع سوات کے ڈی سی او نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مینگورہ سے تقریباً تیس کلومیٹر دور پانچ ہزار افراد کی گنجائش کے لیے ایک خیمہ بستی قائم کی جائےگی تاہم ابھی تک یہ پلان عملی طور پر کاغذوں سے زمین پر اتر نہیں سکا ہے۔ |