BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 October, 2007, 22:27 GMT 03:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: ایف ایم پر نظریات کی جنگ

سوات کے شدت پسند
عسکریت پسند رابطے کے لیے بھی ایف ایم چینلوں کا سہارا لیتے ہیں
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں مذہبی رہنما اور جہادی عناصر ’غیر قانونی‘ ایف ایم ریڈیو چینلوں کے ذریعے علاقے میں اپنی پیغام پھیلا رہے ہیں۔ ان چینلوں کو وادی میں جاری حالیہ کشیدگی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن کے پانچ اضلاع سوات، اپر دیر، لوئر دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ ڈویژن میں ایف ایم چینلوں کی ابتداء دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے دور حکومت کے پہلے چار سالوں میں ہوئی۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن میں اس وقت کوئی تیس سے چالیس کے قریب غیرقانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشن کام کر رہے ہیں۔ سوات میں قائم ان چینلوں کی تعداد سات سے آٹھ بتائی جارہی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں ہر دس کلو میٹر کے فاصلے پر کوئی نہ کوئی ایف ایم چینل قائم ہے۔ بعض لوگ ان ’غیرقانونی‘ چینلوں کی تعداد نوّے تک بتاتے ہیں تاہم ان کے بارے میں نہ تو حکومت کے پاس صحیح اعداد وشمار ہیں اور نہ مقامی سطح پر اس کی تفصیل موجود ہے۔

حکومت بمقابلہ مولانا
 چینل کے مقبولیت کے ابتدائی دنوں کے بعد حکومت اور مولانا فضل اللہ نے ایک دوسرے کے خلاف ذرائع ابلاغ اور ایف ایم چینل کے ذریعے سے بیان بازی کی جنگ شروع کی جس میں عام لوگ دلچسپی لینے لگے بلکہ عوام اس کو حکومت اور مولانا کے درمیان ایک میچ سمجھ کر محظوظ بھی ہوتے رہے۔
لیکچرار سید عرفان اشرف
سوات میں مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کا ایف ایم چینل لوگوں میں خاصا مقبول سمجھا جاتاہے۔ یہ چینل ایک طاقت ور ٹرانسمیٹر پر قائم کیا گیا ہے جس کی نشریات مقامی لوگوں کے مطابق چالیس کلومیٹر کے فاصلے تک سنی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل اللہ کا ایف ایم چینل مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ مقبول ہے۔ اس کی وجہ اس چینل پر خواتین کے شرعی مسائل کے بارے میں پروگرام بتائے جارہے ہیں۔

ان پروگراموں میں خواتین کی طرف سے خطوط بھی بھیجے جاتے ہیں جس کے جوابات ریڈیو چینل پر دیئے جاتے ہیں۔

سوات کے مسئلے پر گہری نظر رکھنے والے شعبہ صحافت پشاور یونیورسٹی کے ایک لیکچرار سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ ’تین چار سال پہلے جب مولانافضل اللہ نے ایف ایم چینل قائم کیا تو اس وقت حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی لیکن آج جب اس چینل کی وجہ سے علاقے میں مذہبی عناصر کے اثر رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے تو حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے‘۔

ان کے مطابق چینل کے مقبولیت کے ابتدائی دنوں کے بعد حکومت اور مولانا فضل اللہ نے ایک دوسرے کے خلاف ذرائع ابلاغ اور ایف ایم چینل کے ذریعے سے بیان بازی کی جنگ شروع کی جس میں عام لوگ دلچسپی لینے لگے بلکہ عوام اس کو حکومت اور مولانا کے درمیان ایک میچ سمجھ کر محظوظ بھی ہوتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وہ چیز تھی جس کا لوگوں کو علم بھی نہیں ہوا اور وہ غیر محسوس طور پر اس چینل کے اثر میں آچکے تھے۔

ایف ایم چینل ذمہ دار نہیں
 ان چینلوں کی بھر مار سے علاقے میں امن وامان میں کچھ حد تک خلل پڑا ہے کیونکہ ان کی بنیاد ہی غیر قانونی ہے تاہم ان سٹیشنوں کی نشریات سے مذہبی شدت پسندی نہیں بڑھی ہے۔
ضیاء الدین یوسفزئی
ایف ایم چینل قائم کرنے کے لیے کسی بڑے دفتر یا آلات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کو ایک چھوٹے سے کمرے میں آسانی سے قائم کیا جاسکتا ہے۔ مقامی سطح پر اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق ایف ایم چینل کو قائم کرنے کے لیے ایک ٹراسنمیٹر، بیٹری اور ایک عدد انٹینے کی ضرورت ہوتی ہے جسے آسانی سے ایک سے دوسری جگہ منتقل بھی کیا جاسکتا ہے۔

سوات میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشن زیادہ تر مذہبی علماء اور جہادی عناصر چلاتے ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن اور بالخصوص سوات میں یہ تاثر عام ہے کہ ان چینلوں کو شدت پسندی اور جہاد کی تبلیغ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

سوات میں ایک سماجی تنظیم گلوبل پیس کے صدر ضیاء الدین یوسفزئی اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ ان چینلوں کی بھر مار سے علاقے میں امن وامان میں کچھ حد تک خلل پڑا ہے کیونکہ ان کی بنیاد ہی غیر قانونی ہے تاہم ان کے مطابق ان سٹیشنوں کی نشریات سے مذہبی شدت پسندی نہیں بڑھی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ چینل صرف سوات میں نہیں بلکہ دیگر اضلاع بونیر اور شانگلہ میں بھی قائم ہیں لیکن وہاں حالات پرامن ہیں اور امن وامان کی صورتحال بھی بہتر ہے۔

کچھ عرصہ قبل تک علاقے میں کچھ ایسے چینلز بھی تھے جس پر گانے بچانے پیش کئے جاتے تھےتاہم مذہبی عناصر کی جانب سے قتل کی دھمکیوں کے بعد یہ تفریحی چینل چلانے افراد نے اپنے تمام سٹیشن یا تو بند کردیئے یا اپنی نشریات بہت محدود کردیں۔

جنگجوؤں کے ایک کمانڈر کا دعوی

حکومت کا رابطہ
 ان چینلوں کے قائم ہونے سے حکومت کا عوام سے رابط بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔ پہلے حکومت ٹی وی کے ذریعے سے مقامی لوگوں سے رابطے میں رہتی تھی لوگ ٹی وی دیکھ کر حکومت کے سرگرمیوں سے باخبر رہتے تھے لیکن اب چونکہ زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں لوگ ان ریڈیو چینلوں کو سنتے ہیں اس لیے ان پر مذہبی عناصر کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے۔
سینیئر صحافی غلام فاروق خان
ٰ ہے کہ وہ ان ایف ایم چینلوں کوجنگی مقاصد یا حکومت کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی میں اپنے ساتھیوں کو پیغام دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب بھی وہ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں یا ان پر حملہ ہوتا ہے تو وہ اور ان کے ساتھی ایف ایم پر اپنے ساتھیوں سے رابطے کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایک نیٹ ورک کی شکل میں کام کرتے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف ایم چینلوں کے مقامات تبدیل کئے جاتے ہیں تاکہ حکام اور سکیورٹی فورسز کو عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا علم نہ ہو۔

سوات میں سینئیر مقامی صحافی غلام فاروق کا کہنا ہے کہ ان چینلوں کے قائم ہونے سے حکومت کا عوام سے رابط بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق ’پہلے حکومت ٹی وی کے ذریعے سے مقامی لوگوں سے رابطے میں رہتی تھی لوگ ٹی وی دیکھ کر حکومت کے سرگرمیوں سے باخبر رہتے تھے لیکن اب چونکہ زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں لوگ ان ریڈیو چینلوں کو سنتے ہیں اس لیے ان پر مذہبی عناصر کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے۔

ان چینلوں پر کس قسم کے پروگرام پیش ہوتے ہیں، یہ اپنی جگہ ، لیکن سوات میں اتنی تباہی کے باوجود ان غیر قانونی چینلوں کے بارے میں کوئی دفیصلہ نہ کرنا حکومت کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔

اسی بارے میں
پہلا نجی پشتو چینل
01 July, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد