سوات: ایف ایم پر نظریات کی جنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں مذہبی رہنما اور جہادی عناصر ’غیر قانونی‘ ایف ایم ریڈیو چینلوں کے ذریعے علاقے میں اپنی پیغام پھیلا رہے ہیں۔ ان چینلوں کو وادی میں جاری حالیہ کشیدگی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن کے پانچ اضلاع سوات، اپر دیر، لوئر دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ ڈویژن میں ایف ایم چینلوں کی ابتداء دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے دور حکومت کے پہلے چار سالوں میں ہوئی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن میں اس وقت کوئی تیس سے چالیس کے قریب غیرقانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشن کام کر رہے ہیں۔ سوات میں قائم ان چینلوں کی تعداد سات سے آٹھ بتائی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں ہر دس کلو میٹر کے فاصلے پر کوئی نہ کوئی ایف ایم چینل قائم ہے۔ بعض لوگ ان ’غیرقانونی‘ چینلوں کی تعداد نوّے تک بتاتے ہیں تاہم ان کے بارے میں نہ تو حکومت کے پاس صحیح اعداد وشمار ہیں اور نہ مقامی سطح پر اس کی تفصیل موجود ہے۔
ان پروگراموں میں خواتین کی طرف سے خطوط بھی بھیجے جاتے ہیں جس کے جوابات ریڈیو چینل پر دیئے جاتے ہیں۔ سوات کے مسئلے پر گہری نظر رکھنے والے شعبہ صحافت پشاور یونیورسٹی کے ایک لیکچرار سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ ’تین چار سال پہلے جب مولانافضل اللہ نے ایف ایم چینل قائم کیا تو اس وقت حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی لیکن آج جب اس چینل کی وجہ سے علاقے میں مذہبی عناصر کے اثر رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے تو حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے‘۔ ان کے مطابق چینل کے مقبولیت کے ابتدائی دنوں کے بعد حکومت اور مولانا فضل اللہ نے ایک دوسرے کے خلاف ذرائع ابلاغ اور ایف ایم چینل کے ذریعے سے بیان بازی کی جنگ شروع کی جس میں عام لوگ دلچسپی لینے لگے بلکہ عوام اس کو حکومت اور مولانا کے درمیان ایک میچ سمجھ کر محظوظ بھی ہوتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ چیز تھی جس کا لوگوں کو علم بھی نہیں ہوا اور وہ غیر محسوس طور پر اس چینل کے اثر میں آچکے تھے۔
سوات میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشن زیادہ تر مذہبی علماء اور جہادی عناصر چلاتے ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن اور بالخصوص سوات میں یہ تاثر عام ہے کہ ان چینلوں کو شدت پسندی اور جہاد کی تبلیغ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ سوات میں ایک سماجی تنظیم گلوبل پیس کے صدر ضیاء الدین یوسفزئی اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ ان چینلوں کی بھر مار سے علاقے میں امن وامان میں کچھ حد تک خلل پڑا ہے کیونکہ ان کی بنیاد ہی غیر قانونی ہے تاہم ان کے مطابق ان سٹیشنوں کی نشریات سے مذہبی شدت پسندی نہیں بڑھی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ چینل صرف سوات میں نہیں بلکہ دیگر اضلاع بونیر اور شانگلہ میں بھی قائم ہیں لیکن وہاں حالات پرامن ہیں اور امن وامان کی صورتحال بھی بہتر ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک علاقے میں کچھ ایسے چینلز بھی تھے جس پر گانے بچانے پیش کئے جاتے تھےتاہم مذہبی عناصر کی جانب سے قتل کی دھمکیوں کے بعد یہ تفریحی چینل چلانے افراد نے اپنے تمام سٹیشن یا تو بند کردیئے یا اپنی نشریات بہت محدود کردیں۔ جنگجوؤں کے ایک کمانڈر کا دعوی
انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب بھی وہ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں یا ان پر حملہ ہوتا ہے تو وہ اور ان کے ساتھی ایف ایم پر اپنے ساتھیوں سے رابطے کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایک نیٹ ورک کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف ایم چینلوں کے مقامات تبدیل کئے جاتے ہیں تاکہ حکام اور سکیورٹی فورسز کو عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا علم نہ ہو۔ سوات میں سینئیر مقامی صحافی غلام فاروق کا کہنا ہے کہ ان چینلوں کے قائم ہونے سے حکومت کا عوام سے رابط بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق ’پہلے حکومت ٹی وی کے ذریعے سے مقامی لوگوں سے رابطے میں رہتی تھی لوگ ٹی وی دیکھ کر حکومت کے سرگرمیوں سے باخبر رہتے تھے لیکن اب چونکہ زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں لوگ ان ریڈیو چینلوں کو سنتے ہیں اس لیے ان پر مذہبی عناصر کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے۔ ان چینلوں پر کس قسم کے پروگرام پیش ہوتے ہیں، یہ اپنی جگہ ، لیکن سوات میں اتنی تباہی کے باوجود ان غیر قانونی چینلوں کے بارے میں کوئی دفیصلہ نہ کرنا حکومت کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ | اسی بارے میں ’سوات کو اب میں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا‘31 October, 2007 | پاکستان پنجاب میں ٹی وی چینلوں کی جنگ02 June, 2004 | پاکستان پہلا نجی پشتو چینل01 July, 2004 | پاکستان سرائیکی زبان کا ٹی وی چینل ’روہی‘18 October, 2006 | پاکستان چینلز پر پابندی، مشعل بردار جلوس04 June, 2007 | پاکستان پیمرا کی نیوز چینلوں کو تنبیہہ26 September, 2007 | پاکستان سوات: ’اٹھارہ سے زائد شدت پسند ہلاک‘31 October, 2007 | پاکستان ’سوات میں غیر ملکی موجود ہیں‘31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||