BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 November, 2007, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: میزائل حملہ، طالبان ہلاک

وزیرستان طالبان
گزشتہ ماہ تحصیل میر علی میں بھی جھڑپیں ہوئی تھیں (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں کسی نامعلوم مقام سے داغے گئے ایک میزائل سے طالبان کے کچھ اہلکار ہلاک جبکہ کئی زحمی ہوگئے ہیں۔میزائل سابقہ افغان کمانڈر جلال الدین حقانی کی رہائش گاہ کے قریب گرا جہاں خیال ہے کہ مشکوک افراد کا ٹھکانہ تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے کوئی پانچ کلومیٹر دور افغان سرحد کے قریب ڈانڈے درپہ خیل میں ایک میزائل گرا جس سے طالبان کے کچھ اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔چھ زخمیوں کو میرانشاہ سول ہسپتال بھی لایا گیا ہے۔

لیکن پاکستان فوج کے شعبہءِ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے ڈانڈے دڑپہ خیل کے علاقے میں کسی حملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر اُنہوں نے کہا کہ پاکستان فوج نے کوئی کاروائی نہیں کی ہے البتہ اُنہوں نے کہا کہ وہاں ہر ایک زور دار دھماکے کی آواز سُنی گئی ہے۔

بی بی سی کے ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز دن تقریباٌ ایک بج کر پچیس منٹ کے لگ بھگ میران شاہ کے قریب ڈاٹڈے دڑپہ خیل کے مقام پر ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چند مبینہ عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

میجر جنرل وحید ارشد نے کہا ’فوج یا کسی اور سکیورٹی فورس کی جانب سے حملے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘

جب اُن سے حملے کے افغانستان سے کیے جانے کے بارے میں پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’ اتنے فاصلے سے آرٹلری فائر کیسے میران شاہ کے قریب پہنچ سکتا ہے؟‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ شاید حملہ بغیر پائلٹ کے طیارے کے ذریعے کیا گیا ہو تو اُنہوں نے اس سے بھی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘

اس سے قبل مقامی لوگوں نے بتایا تھا کہ ایک میزائل گرنے سے زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد مقامی طالبان نے علاقے کے تمام راستوں کو بند کیا گیا ہے اور کسی کو مذکورہ علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میزائل سابقہ افغان کمانڈر جلال الدین حقانی کے رہائش گاہ کے قریب گرا ہے جو مشکوک لوگوں کا ٹھکانہ ہوسکتا ہے۔

بعض لوگوں نے بتایا کہ میزائل دھماکے میں چھ افراد ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے ہیں لیکن ہلاک یا زخمیوں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہوسکی اور نہ یہ معلوم ہوسکا ہے کہ میزائل کہاں سے داغا گیا۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں پہلے بھی کئی بار میزائل گرے ہیں لیکن اس وقت بھی یہ تصدیق نہیں ہوسکی تھی کہ میزائل کہاں سے آئے تھے۔ مقامی لوگ یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ میزائل افغانستان سے داغے جاتے ہیں۔

طالبان کا وزیرستان
ہارون کے کیمرے سے خصوصی تصاویر
وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسی بارے میں
وزیرستان دھماکہ، جرگہ ملتوی
01 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد