BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 October, 2007, 23:04 GMT 04:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: جنگ بندی ابھی نہیں

طالبان: فائل فوٹو
طالبان نے کہا ہے کہ جب تک فوجی چوکیاں نہیں ہٹائی جائیں گی فائر بندی نہیں ہو گی
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے جنگ بندی کی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے سے سکیورٹی چوکیوں کے خاتمے تک اس کا امکان نہیں ہے۔ ادھر حکومت نے بھی جنگ بندی سے متعلق کسی فیصلے سے انکار کیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے صدر میران شاہ میں فوجی قلعے پر منگل کی شام نامعلوم افراد نے حملہ کیا ہے تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔

طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی جنگ بندی کا فیصلہ ان کی شوریٰ ہی کر سکتی ہے تاہم اس کے لیے حکومت کو ان کی علاقے سے نئی سکیورٹی چوکیاں ختم کرنے کا مطالبہ تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان بھی صرف ان کے ترجمان احمد اللہ احمدی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

فوج کی چوکی
شمالی وزیرستان کے میر علی علاقے میں دس روز تک کرفیو نافذ رہنے کے بعد اب اٹھا لیا گیا ہے

طالبان ترجمان کے بقول قبائلی جرگہ قیام امن کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم یہ کوششیں کسی ایسے مقام پر نہیں پہنچی ہیں جہاں جنگ بندی کا اعلان کیا جاسکے۔

ادھر شمالی وزیرستان کے میر علی علاقے میں دس روز تک کرفیو نافذ رہنے کے بعد اب اٹھا لیا گیا ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی عوام کے مفاد میں اٹھائی گئی ہے۔ کرفیو کے اٹھنے سے میران شاہ اور بنوں کے درمیان اہم شاہراہ بھی کھول دی گئی ہے۔

تاہم میجر جنرل وحید ارشد نے علاقے سے چوکیوں کے خاتمے کی خبروں کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قبائلی جنگجوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی درخواست حکومت کو موصول ہوئی تو وہ اس پر غور کرسکتی ہے۔

مقامی طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں طالبان حافظ گل بہادر کی قیادت میں متحد ہیں اور کسی اور کو جنگ بندی کے اعلان کی اجازت نہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران میر علی میں لڑائی کے دوران حکومت کے مطابق ڈھائی سو سے زائد افراد جن میں پچاس مشتبہ غیرملکی شدت پسند بھی شامل ہیں مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
میرعلی جھڑپ: افراد3 ہلاک
14 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد