BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 October, 2007, 06:35 GMT 11:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی تشدد اور مذہبی انتہا پسندی

مقامی طالبان
اس سے محسوس ہوا کہ شاید طالبان کو اپنے ’امیج‘ کے بارے میں کوئی تشویش پیدا ہوئی ہے
’مغویوں سے ہمارے سلوک کے بارے میں دریافت کریں تاکہ لوگوں میں ہمارے بارے میں غلط تاثر دور ہوسکے۔ لوگوں کے ذہنوں میں ہماری انتہائی غلط شبیہہ ہے کہ ہم نہ جانے کیسے لوگ ہیں۔‘

یہ درخواست تھی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اڑھائی سو سے زائد فوجیوں کو پینتالیس روز سے زائد عرصے سے یرغمال بنانے والے بیت اللہ گروپ کے ایک نوجوان جنگجو فیصل کی۔ یہ بات اس نے ان یرغمال فوجیوں میں سے تین کے ساتھ بی بی سی کے خصوصی انٹرویو کے دوران کی۔

اس سے محسوس ہوا کہ شاید طالبان کو اپنے ’امیج‘ کے بارے میں کوئی تشویش پیدا ہوئی ہے اور وہ اب اسے درست کرنے کی کوئی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن جب میں نے جواب دیا کہ تاثر اس ’انجینریڈ‘ جواب سے نہیں درست ہوگا تو اس تاریک کمرے میں موجود تقریباً اس کے دس دیگر طالبان ساتھی حیرت سے دیکھنے لگے۔ میرا جواب تھا: ’آپ کی شبیہہ تو ان ویڈیوز کے بند ہونے سے شاید بہتر ہو جن میں آپ لوگوں کے سر قلم کرتے دکھاتے ہیں۔‘

اس پر کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی اور پھر بات دوبارہ انٹرویو کی شروع ہوگئی۔ لیکن اس مختصر جملوں کے تبادلے نے شاید وزیرستان کے ایک اہم ترین پہلو کی جانب اشارہ کیا۔ وہاں مختلف الزامات کے تحت قتل کیے جانے والے افراد سے بعض لوگوں کے مطابق ’غیرانسانی‘ سلوک۔

 مغویوں سے ہمارے سلوک کے بارے میں دریافت کریں تاکہ لوگوں میں ہمارے بارے میں غلط تاثر دور ہوسکے۔ لوگوں کے ذہنوں میں ہماری انتہائی غلط شبیہہ ہے کہ ہم نہ جانے کیسے لوگ ہیں
طالبان
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کئی مرتبہ وزیرستان جانے کا موقع ملا۔ ہر مرتبہ اسے زیادہ دلچسپ مگر خطرناک پانے کے ساتھ ساتھ زیادہ سنگ دل اور شدت پسند بھی پایا۔ ایک بات تو ان دوروں کی روشنی میں وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے اور وہ یہ کہ انتہا پسندی میں یہ انتہا برس ہا برس کی جنگی کیفیت کا نتیجہ ہے۔

قبائلی معاشرہ اتنا سنگ دل شاید پہلے کبھی نہیں تھا۔ لڑائی جھگڑا اور مار کٹائی تو ان کا نسلوں سے محبوب مشغلہ رہا ہے لیکن اس میں وہ اس حد تک نہیں نکل جاتے تھے کہ گلے کاٹنے کے بعد بھی اس شخص کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔ اسلام میں تو لاش کی بےحرمتی سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن شاید ہی آج کل ملنے والی مبینہ جاسوسوں کی لاشیں کبھی اچھی حالت میں ملی ہوں۔

ماضی میں دشمن پر زیادہ سے زیادہ دو چار گولیاں ہی ’ضائع‘ کر دی جاتی تھیں لیکن اب تو ایسا کم ہی ہوتا ہے۔

مقامی طالبان کے ساتھ ایک رات قیام کے دوران انہوں نے ہمیں ان تین یرغمال فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے والی ویڈیو بھی بڑے فخر سے دکھائی۔ ان فوجیوں کے ہاتھ پیچھے بندھے تھے اور گھٹنوں کے بل انہیں رات کی تاریکی میں کھڑا کرکے یہ گولیاں ان کے سروں میں ماری گئیں۔

اس قسم کی ویڈیو دیکھنے کا مجھے قطعی کوئی شوق یا تجسس نہیں تھا تاہم پھر بھی ان کے اصرار پر آدھی دیکھنی پڑی۔ اور کچھ سمجھ نہ آیا تو خود کو کمزور دل قرار دیتے ہوئے سٹاپ بٹن دبا دیا۔

 بکرے کو ذبح کرتے ہیں گلے سے تو وہ آسانی سے مرتا ہے لیکن اب ہمیں اگر کسی شخص کو ذیادہ تکلیف دینی ہو تو اس کو گلے سے نہیں گردن سے کاٹنا شروع کرتے ہیں
طالبان
گولیاں مارنے کے مقابلے میں تاہم ان طالبان کا بظاہر زیادہ محبوب مشغلہ ذبح کرنا ہے۔ وہ قرآنی آیات اور اسلامی تاریخی واقعات کو جواز بنا کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ان کے پاس دشمن کی لاش کے ٹکڑے کرنے سے متعلق بھی کوئی نہ کوئی جواز ضرور ہوتا ہے۔

اس علاقے میں آباد قبائل کی تاریخ اگر آپ اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو یقیناً دشمن کے معاملے میں وہ انتہائی بےرحم معلوم ہوں گے۔ برطانوی فوجیوں سے لے کر آج تک ان کے ہاتھ جو چڑھا اس کی خیر کم ہی ہوئی ہے۔ شاید ان کی جانب سے عبرتناک سزائیں ہی ان کا بڑا ہتھیار ہیں۔

صدیوں پرانا روایتی قبائلی تشدد اب مذہبی انتہا پسندی کے ساتھ مل کر ان قبائلیوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ایسا ہتھیار جو ان کے دشمنوں کے دلوں میں ان کا خوف اور دہشت پیدا کرتا ضرور ہے۔

طالبان کے ساتھ سفر کے دوران ایک نے بتایا کہ آپ لوگ جو پھانسی دیتی ہیں اس سے اس شخص کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس شخص کی روح نہیں نکل پاتی جسم سے۔ ’ہمارا طریقہ بہت آسان ہے۔ چھرا پھیرا اور روح جسم سے پرواز کر جاتی ہے۔‘

تاہم وہ اس ہلاک کرنے کے آسان طریقے کی وضاحت ہی کر رہا تھا کہ گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھا لمبے بالوں اور بڑی سی داڑھی والا اس کا ساتھی بول پڑا۔ ’بکرے کو ذبح کرتے ہیں گلے سے تو وہ آسانی سے مرتا ہے لیکن اب ہمیں اگر کسی شخص کو ذیادہ تکلیف دینی ہو تو اس کو گلے سے نہیں گردن سے کاٹنا شروع کرتے ہیں۔‘

اس بات کے بعد مجھے اس موضوع کو مزید آگے بڑھانے کی کوئی خواہش نہ رہی۔ میری عدم دلچسپی کو محسوس کرتے ہوئے مقامی طالبان بھی خاموش ہوگئے۔ لیکن اس خاموشی سے قبل میری بغل میں بیٹھے اس طالب نے اتنا ضرور بڑے فخر سے کہا کہ کل رات اس کمرے میں جن طالبان سے گپ شپ لگ رہی تھی آپ کی ان میں ایک ایسا بھی تھا جو اب تک تریپن افراد کو ذبح کر چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد