BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان نے 6 افراد کےگلے کاٹ دیے

مہمند ایجنسی کے نقاب پوش طالبان (فائل فوٹو)
چند ماہ قبل بھی نقاب پوشوں نے مہمند ایجنسی میں ایک مزار پرقبضہ کیاتھا
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں اپنے آپ کو مقامی طالبان ظاہر کرنے والے ایک گروہ نے کل اغواء کیے گئے چھ افراد کے جمعہ کے روز دویزئی، تحصیل پنڈیالی، میں ایک عوامی اجتماع کے سامنے گلے کاٹ دیے ہیں۔

اس طرح پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مقامی طالبان کی کارروائیوں کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سولہ ہوگئی ہے۔

مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی سے بی بی سی کے ذرائع کے مطابق جن چھ افراد کو جمعرات کو آسو کورونہ گاؤں میں طالبان کی ایک کارروائی کے بعد اغواء کیا گیا تھا اُنھیں آج لگ بھگ پندرہ سو کے مجمع کے سامنے نقاب پوشوں نے ذبح کر دیا ۔

واقعہ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ جمعرات کو مقامی طالبان نے آسو کورونہ میں اغواء اور دیگر جرائم میں مبیینہ طور پر ملوث ایک گروہ کے سرغنہ یوسف کے گھر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے مابین شدید جھڑپ ہوئی جس میں چار حملہ آور ہلاک اور تین زخمی ہوئے ۔

بعد میں سینکڑوں کی تعداد میں مسلح طالبان نے یوسف اور اس کے ساتھیوں کا محاصرہ کیا اور شدید لڑائی کے نتیجے میں، اطلاعات کے مطابق، یوسف کے پانچ ساتھی مارے گئے جبکہ چھ کو طالبان اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے ۔

سب دیکھتے رہے
 حیرانگی کی بات ہے کہ طالبان کی جانب سے چھ مغویوں کو جمعہ کے روز ذبح کرنے کے بار بار کے اعلانات ہوتے رہے لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا
ایک مقامی رہائشی

ذرائع کے مطابق جمعرات کی رات دیر تک دویزئی میں طالبان کی جانب سے اعلانات کیے جاتے رہے کہ جمعہ کو چھ مغویوں کو ہلاک ہونے والے طالبان کی نمازِ جنازہ کے بعد بھرے مجمع میں ذبح کیا جائے گا ۔

دویزئی میں دو ہلاک ہونے والے طالبان میں سے دو کی نمازِ جنازہ جمعہ کو دس بجے ادا کی گئی جس کے بعد اعلان کے مطابق چھ مغویوں کے سر تن سے جدا کر دیے گئے ۔

مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر جب اُن سے بات کرنے کے لیے ٹیلیفون کیا تو بی بی سی کو بتایا گیا کہ ’صاحب عید کی چھٹیوں پر گئےہوئے ہیں اور سولہ تاریخ کو واپس آئیں گے‘ ۔ البتہ ٹیلیفون پر بات کرنے والے سرکاری اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ چھ کے چھ مغویوں کو طالبان کے جنازہ کے بعد ذبح کردیا گیا ۔

مہمند ایجینسی سے تعلق رکھنے والے قبائل نے بی بی سی سے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حیرانگی کی بات ہے کہ طالبان کی جانب سے چھ مغویوں کو جمعہ کے روز ذبح کرنے کے بار بار کے اعلانات ہوتے رہے لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا۔

جس جگہ جمعہ کے روز چھ افراد کو ذبح کیا گیا یہ مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی سے تقریباٌ چالیس کلومیٹر شمال کی طرف ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے چھ افراد کی جان بچانے کے لیے نہ تو کوئی عسکری کاروائی کی گئی اور نہ ہی قبائلی علاقوں کے روایتی جرگہ کے ذریعے کوئی کوشش کی گئی۔

ذبح کیے گئے افراد کی، جن کا تعلق دویزئی کے علاقہ سے بتایا جاتا ہے ، لاشیں اس خبر کے لکھے جانے تک انتظامیہ کے حوالے نہیں کی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ جن پانچ افراد کو کل جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا تھا اُن کی لاشیں بھی جمعہ کی صبح تک دویزئی کے پہاڑوں میں پڑی رہیں۔

مہمند ایجنسی سے ملحقہ باجوڑ ایجنسی میں اپنے آپ کو ’تحریک ِ طالبان باجوڑ ایجنسی‘ کہنے والی تنظیم کی جانب سے ایجنسی کے صدر مقام خار اور اس سے قریب ہی واقع علاقے عنایت کلے میں مسجدوں کے باہر اور بازار میں پشتو میں تحریر پمفلٹ چسپاں کیے گئے ہیں جن میں علاقے کی خواتین اور بچیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ عید کے موقع پر گھروں سے باہر سیر کے لیے نہ نکلیں بصورتِ دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ پمفلٹ میں لکھا ہے کہ اگر عورتوں کو عید کے موقع پر کسی جگہ پر اکٹھا دیکھا گیا تو اس جگہ پر بم سے حملہ کیا جائے گا ۔

مقامی صحافی کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا پمفلٹ ہے جس کے ذریعے عورتوں کو دھمکی دی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے اس قسم کے دھمکی آمیز پمفلٹ یا خطوط حجاموں اور میوزک سینٹرز کے مالکان کے لیے ہوتے تھے۔

اسی بارے میں
مہمند ایجنسی: عورت کا سر قلم
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد