مہمند ایجنسی: عورت کا سر قلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کو پہلی مرتبہ ایک خاتون کی سربریدہ لاش ملی ہے جس سے مبینہ طور پر ’جسم فروشی‘ میں ملوث ہونے کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔ ایک پولیٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام کو جمعہ کی صبح صدر مقام غلنئی سے تقریباً بیس کلومیٹر دور تحصیل حلیم زئی میں نحقی اور کشمیر کور گاؤں کے درمیان ایک خاتون کی سر کٹی لاش ملی ہے۔ ان کے بقول اس خاتون کو جمعرات کی شام کو مقامی طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے قندارو کے علاقے سے بعض نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اغواء کر لیا تھا۔ اہلکار کے مطابق لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ خاتون مبینہ طور پر’جسم فروشی‘ میں ملوث تھی اور اس قسم کے فعل میں ملوث ہونے والوں کا انجام یہی ہوگا۔ خط میں خاتون کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔ پولیٹیکل اہلکار کے مطابق قتل کی جانے والی خاتون کی عمر تقریباً چالیس سال ہے اور حکام نے لاش باجوڑ ایجنسی روانہ کردی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سات ستمبر کو صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں بھی دو خواتین کو ’جسم فروشی‘ میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت گلا کاٹ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ تاہم قبائلی علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں میں درجنوں افراد کو مبینہ طور پر امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیا گیا ہے تاہم حالیہ دو واقعات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو’ جسم فروشی‘ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام کے تحت گلا کاٹ کر مارے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: ’بھتہ خوروں‘ کے سر قلم09 December, 2005 | پاکستان میران شاہ میں دو افراد کے سر قلم30 August, 2006 | پاکستان مبینہ ’امریکی جاسوس‘ کا سر قلم28 February, 2007 | پاکستان فوجیوں کی تلاش بے سود03 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||