BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 November, 2007, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی کی صورتحال بہتر؟

قبائلی علاقوں میں فوج کو پیچھے رکھ کر نیم فوجی دستوں کے استعمال کا منصوبہ ہے
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت صدر جنرل پرویز مشرف نےاس انتہائی قدم کی جو وجوہات بتائی تھیں، ان میں سے ایک سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال بھی تھی۔

لیکن ایمرجنسی کے بعد سے خودکش حملوں جیسے دہشت گردی کے واقعات میں کافی کمی آئی ہے اور وزیرستان میں تو جیسے لڑائی ختم سی ہوگئی ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ہنگامی حالت یا کچھ اور۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس سال جولائی اور نومبر کے دوران اٹھائیس خودکش حملے ہوئے جن میں چھ سو سے زائد اموات ہوئیں۔ لیکن ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صرف ایک حملہ سابق وفاقی وزیر امیر مقام کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

ماہرین کے مطابق یہ وقتی تعطل ہے۔ شدت پسند ہنگامی حالت سے خوفزدہ ہرگز نہیں۔ شاید اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے سابق سیکریٹری برگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ اس بات سے متفق ہیں کہ یہ وقتی تعطل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں سکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان کے میر علی علاقے میں کامیاب کارروائی کو بھی روک دیا گیا جس کے بعد اب وہاں چونکہ فوج کوئی کارروائی نہیں کر رہی، لہذا اس کا کوئی ردعمل یعنی فوج پر حملے بھی نہیں ہو رہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر کو نشانہ بنایا گیا

محمود شاہ کا کہنا تھا کہ اس خاموشی کی ایک وجہ شدت پسندوں کا سوات کی جانب رخ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

’آج کل شدت پسند وہاں زیادہ متحرک ہیں‘۔

سرکاری ذرائع کہتے ہیں کہ وزیرستان کے علاوہ باجوڑ اور افغانستان سے بھی آمدو رفت جاری ہے۔ محسود جنگجوؤں کے رہنما بیت اللہ حکومت کو سوات میں طاقت کے استعمال سے باز رہنے کے لیے کہہ چکے ہیں۔

کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے میں حکومت کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے تاکہ ہنگامی حالت کا جواز بنے اور نافرمان ججوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ لیکن حکومت اس تاثر کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

ملک میں سکیورٹی کی صورتحال جو بھی ہو اور جنرل مشرف کا اسے ہنگامی حالت کا جواز بنانا جائز ہو یا نہ ہو، امریکی اخبارات میں یہ خبریں گرم ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مقابلے کے لیے بظاہر ایک نیا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت، جس کا ذکر جنرل مشرف بھی بارہا اپنی تقاریر میں کرچکے ہیں، فوج کو قبائلی علاقوں میں پیچھے رکھ کر نیم فوجی ملیشیا فرنٹیر کور اور فرنٹیر کنسٹیبلری کو صورتحال سے مقابلے کی ذمہ داری سونپنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

لیکن جہاں باقاعدہ فوج بظاہر ناکام رہی وہاں ایف سی کیا کر لے گی؟ محمود شاہ کہتے ہیں کہ کہ قبائلی علاقوں میں فوج کے استعمال کا طریقہ غلط تھا۔ ’جو منصوبہ بندی تھی وہ غلط تھی اور ہے‘۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ فرنٹئر کور پختون اکثریتی ہونےاور مقامی زبان اور رسم و رواج جاننے کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں امن عامہ قائم رکھنے میں بہتر کردار ادا کرسکے گی۔

قبائلی علاقوں میں فوج کی کارروائی فی الحال بند ہے

جب فوج ابتدائی دنوں میں قبائلی علاقے پہنچی تھی تو وزیرستان کے ایک قبائلی کا جملہ مجھے آج بھی یاد ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ ’ان کے لیے امریکی فوجی اور پنجابی اکثریت والے پاکستانی فوجی ایک برابر ہیں۔ دونوں نہ تو ہمارے رسم و رسواج کو سمجھتے ہیں، نہ ہماری بولی۔‘

لیکن فرنٹئر کور کے لیے بھی آسانی ایک حد تک ہی ممکن ہے۔ جب بات میدان جنگ تک آتی ہے تو پھر چاہے کوئی پختون ہو یا پنجابی، قبائلی علاقوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ماہرین کے مطابق یہ فوج کی جانب سے کمبل سے جان چھڑانے کی ایک آسان صورت تو ہوسکتی ہے مکمل امن کی ضمانت نہیں۔

اس امریکی مجوزہ منصوبے کی جو زیادہ خطرناک بات ہے وہ مقامی قبائلیوں کا استعمال ہے۔ انہیں مسلح کرکے اور ان کی تربیت کرکے ان کے ذریعے شدت پسندوں کا مقابلہ کرانا ہے۔

لیکن عام قبائلی کے لیے امریکی تربیت کا سرٹیفیکیٹ موت کا پروانہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سینکڑوں قبائلی سردار اور عام شہری امریکی جاسوس یا حکومت نواز ہونے کے الزامات میں مارے جاچکے ہیں۔ ایسے میں امریکی مدد کے ساتھ کوئی قبائلی کتنا موثر ہوگا؟

محمود شاہ کہتے ہیں کہ یہ ناقابل عمل اور انتہائی خطرناک تجویز ہے۔ ’ابھی تو افغانستان میں روسی افواج کے خلاف جن قبائلیوں کو مسلح کیا گیا اور ان سے کام لیا گیا تھا، ابھی تک پاکستان اور افغانستان انہیں کو بھگت رہا ہے‘۔

حکومت فرنٹئر کور کی مدد کی حد تک تو امریکی منصوبے کا اعتراف کرتی ہے لیکن قبائلیوں کی تربیت کا نہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ نیم فوجی ملیشیا کے لیے مواصلاتی نظام اور گاڑیوں کی صورت میں امریکی مدد تو کافی عرصے سے جاری ہے، لیکن قبائلیوں کو تربیت دینے کے بارے میں انہیں علم نہیں۔

اس نئے امریکی منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبائلی علاقوں کے لیے ان کی پرانی پالیسی کامیاب نہیں رہی۔ قبائلی علاقوں کو اب ایک نئے تجربے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ابھی وزیرستان کا فرنٹ بند نہیں ہوا کہ فوج نے سوات میں بھی محاذ کھول لیا ہے۔ شاید حالات میں بہتری آنے سے قبل ابھی مزید ابتری آنا باقی ہے۔

میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
پاکستان قبائلی فائل فوٹو مہمند ایجنسی
غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے کا معاہدہ
وزیرستانوزیرستان کے طالبان
قبائلی تشدد اور مذہبی انتہا پسندی ایک ساتھ
مہمند ایجنسیسکول بدستور بند
مہمند ایجنسی میں لڑکیوں کے سکول بند
اسی بارے میں
عام انتخابات آٹھ جنوری کو
20 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد