BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 06:59 GMT 11:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عام انتخابات آٹھ جنوری کو

الیکشن کمیشن
’منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ‘
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے پولنگ آٹھ جنوری کو ہو گی۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ انتخابی شیڈول کے تحت ریٹرننگ افسروں سے کاغذاتِ نامزدگی بدھ اکیس نومبر سے حاصل کیے جا سکیں گے جبکہ مکمل شدہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ چھبیس نومبر ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل ستائیس نومبر سے تین دسمبر تک جاری رہے گا اور ان کی منظوری یا نامنظوری کے حوالے سے اپیلیں سات دسمبر تک داخل کروائی جا سکیں گی جن پر فیصلہ چودہ دسمبر کو سنایا جائے گا۔

جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق کے مطابق کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ پندرہ دسمبر ہو گی جس کے بعد سولہ دسمبر کو امیدواروں کی نظرِ ثانی شدہ حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔

انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں شفاف بیلٹ باکس استعمال کیے جائیں گے۔ قاضی فاروق کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستیں مکمل ہیں اور ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کی جا چکی ہے جبکہ انتخابی عملے کو عالمی معیار کے مطابق تربیت دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے آنے والے غیر ملکی مبصرین کو نہ صرف خوش آمدید کہا جائے گا بلکہ انہیں ہر ممکن سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ الیکشن کمشنر نے مبصرین کو پولنگ سٹیشنوں تک رسائی فراہم کرنے اور ان کے معلوماتی کتابچہ بھی جاری کرنے کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ پیر کو ہی الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے ضابطۂ اخلاق کی منظوری بھی دی ہے تاہم حزب مخالف کی اہم جماعتوں نے اس ضابطۂ اخلاق کو مسترد کر دیا ہے۔

ضابط اخلاق کو حتمی شکل دینے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا جس میں ان سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی جن کی تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی میں نمائندگی تھی۔

تاہم حزب مخالف کی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور متحدہ مجلس عمل نے الیکشن کمیشن کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا تاہم سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ گروپ کے علاوہ مسلم لیگ فنکشنل، جمعیت علماء اسلام سمیع الحق گروپ اور پاکستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

راجہ ظفر الحق (فائل فوٹو)ملک گیر احتجاج
الیکشن بائیکاٹ موخر،احتجاج کی کال
نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
بینظیر بھٹومشورے اور مجبوریاں
سول سوسائٹی والوں کی بینظیر سے توقعات
راجہ ظفر الحق(فائل فوٹو)’ایک فرد کو ترجیح‘
امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں: اپوزیشن
ایمرجنسی مخالف مظاہرےاحتجاج جاری ہے
میڈیا،سول سوسائٹی کے مظاہرے جاری
سیاسی سرکس
پاکستانی سیاست دانوں کو عوام کی فکر نہیں
صدر جنرل مشرف پاکستان ڈائری
صدر جنرل مشرف تصادم کے راستے پر
اسی بارے میں
مشرف اہلیت: درخواستیں خارج
19 November, 2007 | پاکستان
مشرف کو اب جانا ہوگا
17 November, 2007 | پاکستان
’نگران حکومت کا حلف غداری‘
16 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد