الیکشن کمیشن کےاجلاس کابائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی کئی بڑی جماعتوں نے آج الیکشن کمیشن میں عام انتخابات کے لیے متفقہ ضابطہء اخلاق طے کرنے کی غرض سے طلب کیے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور متحدہ مجلس عمل نے کمیشن کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہے کہ کمیشن آج انتخابی شیڈول کو بھی حتمی شکل دے گا۔ حکومت کو عام انتخابات کے لیے متفقہ ضابطہء اخلاق تیار کرنے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کےعدم تعاون کی وجہ سے پہلے دن سے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ جنرل مشرف کے ہنگامی حالات میں عام انتخابات منعقد کروانے پر اصرار کے بعد مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان سینٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو اپنے اعتراضات بتاتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے تحت آزادانہ انتخابات ممکن نہیں۔ ان کی شکایت ہے کے پیپلز پارٹی کے خلاف مسلم لیگ ق کی اشتہاری مہم پر بھی الیکشن کمیشن نےکوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ ادھر دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن خود مبینہ طور پر متنازعہ، جانبدار اور نامکمل ہے‘۔ اتحاد اور جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا کہنا تھا کہ آزادنہ انتخابات ایمرجنسی کو ختم کرکے اور عدلیہ کو تین نومبر سے قبل والی حالت میں لاکر ہی کرائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے استعفے، میڈیا پر پابندیاں ختم کرنے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجوزہ ضابطہ اخلاق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعض حوالوں سے ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں اور بعض اداروں کے سیاسی کردار کو زیر بحث لانے پر پابندیاں انہیں قبول نہیں ہیں۔ مسلم لیگ نون نے بھی انہیں خدشات و شکایات کا اظہار کرتے ہوئے آج کے اجلاس سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انتخابی کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر جماعتوں کے نمائندے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں جن میں سابق حکمراں مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیر پاؤ شامل ہے۔ کمیشن کے مطابق ان تمام جماعتوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی جو سابق پارلیمان میں موجود تھیں۔ الیکشن کمیشن آج توقع ہے کہ عام انتخابات کے شیڈول کو بھی حتمی شکل دے گا تاہم اس کا اعلانمنگل کو متوقع ہے۔ |
اسی بارے میں انتخابات، ریٹرننگ افسروں کی منظوری14 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول متاثر نہیں ہوگا‘16 November, 2007 | پاکستان قومی اور صوبائی اسمبلی کے 164 اراکین نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان بادشاہ مرگیا، بادشاہ زندہ باد!30 September, 2007 | پاکستان سیّد بادشاہ کا کارڈ12 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||