BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن کمیشن کےاجلاس کابائیکاٹ

الیکشن کمیشن
توقع ہے کہ کمیشن آج انتخابی شیڈول کو بھی حتمی شکل دے گا
حزب اختلاف کی کئی بڑی جماعتوں نے آج الیکشن کمیشن میں عام انتخابات کے لیے متفقہ ضابطہء اخلاق طے کرنے کی غرض سے طلب کیے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور متحدہ مجلس عمل نے کمیشن کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

توقع ہے کہ کمیشن آج انتخابی شیڈول کو بھی حتمی شکل دے گا۔

حکومت کو عام انتخابات کے لیے متفقہ ضابطہء اخلاق تیار کرنے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کےعدم تعاون کی وجہ سے پہلے دن سے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔

جنرل مشرف کے ہنگامی حالات میں عام انتخابات منعقد کروانے پر اصرار کے بعد مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان سینٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو اپنے اعتراضات بتاتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے تحت آزادانہ انتخابات ممکن نہیں۔

ان کی شکایت ہے کے پیپلز پارٹی کے خلاف مسلم لیگ ق کی اشتہاری مہم پر بھی الیکشن کمیشن نےکوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

آزادنہ انتخابات ایمرجنسی کو ختم کرکے اور عدلیہ کو تین نومبر سے قبل والی حالت میں لاکر ہی کرائے جاسکتے ہیں
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

ادھر دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن خود مبینہ طور پر متنازعہ، جانبدار اور نامکمل ہے‘۔

اتحاد اور جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا کہنا تھا کہ آزادنہ انتخابات ایمرجنسی کو ختم کرکے اور عدلیہ کو تین نومبر سے قبل والی حالت میں لاکر ہی کرائے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے استعفے، میڈیا پر پابندیاں ختم کرنے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مجوزہ ضابطہ اخلاق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعض حوالوں سے ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں اور بعض اداروں کے سیاسی کردار کو زیر بحث لانے پر پابندیاں انہیں قبول نہیں ہیں۔

مسلم لیگ نون نے بھی انہیں خدشات و شکایات کا اظہار کرتے ہوئے آج کے اجلاس سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم انتخابی کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر جماعتوں کے نمائندے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں جن میں سابق حکمراں مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیر پاؤ شامل ہے۔

کمیشن کے مطابق ان تمام جماعتوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی جو سابق پارلیمان میں موجود تھیں۔

الیکشن کمیشن آج توقع ہے کہ عام انتخابات کے شیڈول کو بھی حتمی شکل دے گا تاہم اس کا اعلانمنگل کو متوقع ہے۔

جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچآزاد کمیشن ضروری
’الیکشن کمیشن منصفانہ ہونا چاہیے‘
قاضی فاروقعدالتی بحران
چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق بھی سرگرم
مشرف اشتہارزبردست تشہیر
تاریخ کا مہنگا ترین صدارتی الیکشن
اسی بارے میں
سیّد بادشاہ کا کارڈ
12 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد