BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 November, 2007, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات، ریٹرننگ افسروں کی منظوری

الیکشن کمشن
انتخابی شیڈول کا اعلان اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد کیا جائے گا: الیکشن کمشن
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی فاروق کی زیرصدارت الیکشن کمشن نے آئندہ عام انتخابات کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز، ریٹرننگ آفیسرز اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی کی منظوری دی۔

ان افسران کی تعیناتی ملک کی چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلز کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور غیرمسلموں کی مخصوص نشستوں کے لیے بھی ریٹرننگ افسروں کی منظوری دی گئی۔

پریس ریلز کے مطابق ملک میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے شیڈول کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد کیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر نے سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھیجی جانے والی تجاویز اور ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دینے کے لیے انیس نومبر کو الیکشن کمشن میں ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں سیاسی جماعتوں کو اپنا ایک ایک نمائندہ بھیجنے کی دعوت دی گئی ہے۔

اجلاس میں الیکشن کمشن کے ارکان جس میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس نسیم سکندر اور بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد خان لاشاری اور الیکشن کمشن کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں ہونے والے عام انتخابات کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

دریں اثنا پاکستان بار کونسل نے چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک میں ہونے والے عام انتخابات کو شفاف اور آزادانہ بنانے کے لیے ایک غیرجانبدار چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے علاوہ الیکشن کمیشن کی ازسرنو تشکیل پر بھی زور دیا۔

بدھ کے روز پاکستان بار کونسل کا اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں رہتے ہوئے ملک میں منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پندرہ نومبر کو بطور صدر اپنی مدت ختم ہونے کے بعد عہدہ صدارت سے الگ ہو جائیں اور صدر کا عہدہ سینٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو کے حوالے کر دیں جو کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد ایک نگران حکومت تشکیل دیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے گورنروں کو نگران حکومت کے قیام کا کوئی حق نہیں کیونکہ ان کی طرف سے قائم کی جانے والی نگران حکومتیں عام انتخابات میں دھاندلی کروانے کا سبب بنیں گی۔

اسی بارے میں
دولتِ مشترکہ:22 نومبر تک مہلت
12 November, 2007 | پاکستان
صدر مشرف پر دباؤ بڑھ رہا ہے
13 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد