دولتِ مشترکہ:22 نومبر تک مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولت مشترکہ کے ممالک کے وزرائے خارجہ نے پیر کو لندن میں ایک غیر معممولی اجلاس میں پاکستان کی رکنیت فوری طور پر معطل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن کہا ہے کہ اگر بائیس نومبر تک پاکستان نے تنظیم کے مطالبات تسلیم نہ کیئے تو اس صورت میں رکنیت معطل کر دی جائے گی۔ ان مطالبات میں صدر کا وردی اتارنا، آئین بحال کرنا اور عدلیہ کی آزادی شامل ہیں۔ پاکستان حکومت کو یہ مطالبات ماننے کے لیے دس روز کا وقت دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ میڈیا پر عائد پابندیاں بھی اٹھائے۔ اجلاس کے بعد دولتِ مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈان میکنن کا کہنا تھا کہ’ اگر جنرل مشرف نے ڈیڈ لائن تک مطالبات نہ مانے تو دولتِ مشترکہ کے وزراء کے آئندہ اجلاس میں پا کستان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔ ڈان میکنن کا کہنا تھا کہ’ دولتِ مشترکہ جنرل مشرف کی جانب سے نو جنوری سے قبل انتخابات کے انعقاد کے اعلان کا خیرمقدم کرتی ہے لیکن ایمرجنسی نہ اٹھائے جانے، عدلیہ اور لوگوں کے آئینی حقوق کی عدم بحالی کی صورت میں ان انتخابات کی ساکھ متاثر ہوگی‘۔ دولت مشترکہ کا یہ اجلاس پاکستان میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد طلب گیا تھا۔ بی بی سی کے جل میگیورنگ کے مطابق اجلاس کے دوران پاکستان کی رکنیت کی معطی کے حوالے سے ملی لی رائے سامنے آئی اور کچھ ممبر مالک پاکستان کی رکنیت کی فوری معطلی کے حق میں تھے تو کچھ کوئی کارروائی نہ کرنے کے حامی تھے۔ اس سے قبل پیر کو ہی پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی تھی کہ دولتِ مشترکہ پاکستان کی رکنی معطل نہیں کرے گی۔ بی بی سی اردو کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان محمد صادق کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان حکومت دولت مشترکہ کے اعلٰی ترین اہلکاروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہنگامی حالت کے بارے میں موقف بڑا واضح ہے کہ ایمرجنسی مخصوص حالات کی وجہ سے نافذ کی گئی اور اسے جلد از جلد اٹھا لیا جائے گا۔ محمد صادق نے مزید کہا کہ وہ دولت مشترکہ کی رکنیت کو اہم سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ایک اہم بین الاقوامی فورم ہے۔ صدر مشرف کے انیس سو ننانوے میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی پاکستان کی دولت مشترکہ کی رکنیت پانچ سال کے لیے معطل کر دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اتوار کو صدر مشرف نے اپنے ناقدین کے انتخاب کروانے کے مطالبے کو تو تسلیم کر لیا تھا لیکن انہوں نے ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے تاریخ کا اعلان نہیں کیا تھا۔ صدر مشرف کو برطانیہ اور امریکہ کی طرف سے آئین کی بحالی اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ ضروری تھا۔ صدر مشرف نے کہا تھا کہ تنقید کے باوجود ان کے مغربی اتحادیوں نے پاکستان کے زمینی حقائق کے بارے میں آگاہی ظاہر کی ہے۔ | اسی بارے میں ’دولت مشترکہ کا فیصلہ غلط ہے‘06 December, 2003 | پاکستان مشرف کے بیان کا عالمی خیر مقدم11 November, 2007 | آس پاس دولت مشترکہ: بحالی پر غور21 May, 2004 | پاکستان دولت مشترکہ، معطلی برقرار؟05 December, 2003 | پاکستان ایمرجنسی: امریکہ میں مظاہرے جاری12 November, 2007 | آس پاس امریکہ کے بعد کینیڈا میں مظاہرے10 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||