سیاست کا گھناؤنا پہلو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی لیڈروں کے حالیہ بیانات سن کر وہاں کے سولہ کروڑ عوام کو کتنی تکلیف اور شرمساری ہوتی ہوگی اسکا احساس بیرونی ملکوں میں رہنے والی تیسری دنیا کی مخلوق کو خوب ہے۔ پاکستانی سیاست دان ’سیاست گری‘ کے ماہر تو ہیں مگر اس میں کہیں ذرا بھی شک نہیں کہ انہیں اپنے عوام کے احساسات اور ملک و قوم کے مفادات کی بالکل فکر نہیں۔ بلکہ وہ مغرب اور امریکہ کی پیش کردہ بیساکھیوں کے سہارے جہموریت کا ماڈل اس قوم پر تھوپنا چاہتے ہیں جس سے ان کا دور دور تک واسطہ نہیں پڑا ہے۔ اکثر رہنما اپنے آپ کو عوامی لیڈر کہتے ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسکا سرٹیفیکیٹ انہیں امریکہ سے لے کر آنا پڑتا ہے اور جب گارنٹی کارڈ کی ضمانت چھن جانے کا غم رہتا ہے تو ملک کے جوہری اثاثوں اور دہشت گردی کا ایسا ہوّا کھڑا کیا جاتا ہے کہ اگر ضمانت شدہ رہنماؤں کے ساتھ ذرا بھی چھیڑ کی جائے توگمان ہوتا ہے کہ شاید پوری دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوگی ۔
ملک کے قبائلی علاقے اپنے اپنے رجواڑوں کا اعلان کر رہے ہیں، اپنی انتظامیہ تشکیل دے رہے ہیں، ہلاکتوں اور تشدد کا بازار گرم ہے، امن وعامہ کی صورت حال بد سے بدتر ہورہی ہے، لوگ گراں بازاری میں پس رہے ہیں، رشوت عروج کو پہنچ چکی ہے مگر یہ سب کچھ لیڈران قوم کے لئے کوئی باعث پریشانی نہیں کیونکہ ان مسائل کا امریکہ مہاراج سے براہ راست کوئی واسطہ نہیں حالانکہ سیاست دان اندرونی انتظامیہ بھی ان کے ہاتھوں میں تھما دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کریں گے۔ پاکستانی لیڈروں کے ذہنوں پر امریکہ چھایا ہے، امریکی خوشنودی اور امریکی مفادات عزیز ہیں، وہ امریکہ کے لئے دہشت گردی کی جنگ اپنے ملک میں لڑ رہے ہیں، جوہری ہتھیاروں کو دہشتگردوں کے ہاتھوں میں لگنے کا خوف پیدا کرکے یہ وارننگ دی جارہی ہے کہ اگر وہ نہیں رہے تو دنیا محفوظ نہیں ۔ کیا یہ تاثر عام نہیں کہ مغربی ممالک پہلے ہی اس کا گراؤنڈ ورک تیار کر چکے ہیں کہ کس طرح سے پاکستان کے جوہری اثاثے اپنے کنٹرول میں کئے جائیں۔ تو پاکستانی لیڈروں کو اتنی فکر کرنے کی کیاضرورت ہے۔ ان کی انٹیلیجنس اتنی کمزور نہیں کہ انہیں پاکستانی رہنماؤں پر انحصار کرناپڑے ۔ یا کیا امریکیوں کو ملک میں پھیلی دہشتگردی پر قابو پانے کے طریقے نہیں معلوم کہ وہ یہاں کے حکمرانوں پر تکیہ کریں۔ وہ اس وقت بھی ملک میں رہ کر ان کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ بے نظیر بھٹو مغربی میڈیا سے بات کرتی ہیں تو محض جوہری اثاثوں یا دہشت گردی کے پھیلنےکا رونا روتی ہیں۔ جنرل مشرف امریکہ اور مغرب کو اتنا ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں اپنی انٹیلیجنس پر شک پیدا ہونے لگتا ہے ۔ کیا پاکستانی رہنماؤں نے گزشتہ ساٹھ برسوں میں اپنے پڑوسیوں سے کچھ نہیں سیکھا، کیا انہیں اپنے عوام نظر نہیں آتے، کیا ان کے لئے عوام کےمسائل اتنے اہم نہیں کہ جن کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ کیا لیڈران قوم کو ہمیشہ امریکی اور مغربی خوشنودی پر ہی زندہ رہنا ہوگا۔ |
اسی بارے میں مشرف میرے موقف سے آگاہ ہیں:بش11 November, 2007 | پاکستان ’انتخابات جنوری کے پہلے ہفتے میں‘11 November, 2007 | پاکستان ’کنگز پارٹی کو جتوانے کامنصوبہ‘11 November, 2007 | پاکستان ’بیساکھی پر کھڑے ملک سے کیا امید‘07 November, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||