نعیمہ احمد مہجور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
 | | | پاکستان کے حالات ابتر ہوں یہ شاید کوئی کشمیری برداشت نہیں کر سکتا |
پاکستان میں جب بھی سیاست پلٹا کھاتی ہے تو اس کی پہلی چوٹ نہ صرف کشمیر پر پڑتی ہے بلکہ اس کا اثر بیشتر ذہنوں کو مفلوج بھی کرتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان متعدد بار کشمیریوں کے لیے مسائل کا باعث بنا ہے اور اس ملک کی وجہ سے یہ قوم اب تک نہ سنبھلی ہے اور نہ مستحکم بنی ہے۔ جب بھی بھارت اور پاکستان کے بیچ مسئلہ کشمیر پر کوئی پیشرفت ہونے کی امید بندھتی ہے تو دنیا میں کوئی ’واردات‘ ضرور ہوتی ہے اور یہ سارا عمل کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ساٹھ برس گزرنے کے باوجود بھی کشمیری پاکستان سے اپنے آپ کو الگ نہیں کر پا رہے ہیں حالانکہ ایک تازہ سروے کے مطابق پینسٹھ فیصد آبادی مکمل آزادی کے حق میں ہے۔ گو کہ بیشتر لوگ اب الحاق پاکستان کے نظریے کو فراموش کر چکے ہیں لیکن کئیوں کے ذہن و دل پر پاکستان چھایا ہواہے اور پاکستان کے حالات ابتر ہوں یہ بہت کم کشمیری برداشتکر سکتے ہیں۔ ہرگھر میں پاکستان اور اس کے حالات اہم موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ کب ملک کے حالات بہتر ہوں، کب وہاں استحکام پیدا ہو اور کب وہاں کے رہنما بقائے باہمی کا سبق سیکھیں ہر کشمیری کی تمنا بن جاتی ہے۔ پاکستان جنگ ہارے تو کئی کشمیری چولہا نہیں جلاتے۔ پاکستان کرکٹ میچ ہارے تو کشمیری افسردہ ہوتے ہیں۔ سیاسی استحکام خطرے میں پڑ جائے تو کشمیری بےچین ہو جاتے ہیں۔  |  اس وقت کشمیر میں ہر کوئی یہ دعا کیوں مانگ رہا ہے کہ اللہ پاکستان کو بچا لے۔ شاید پاکستان کے رہنماؤں کو اس کا کوئی احساس نہیں کہ آزادی حاصل کرنا اور آزاد زندگی گزارنا کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے اور یہ احساس شاید صرف کشمیریوں، فلسطینیوں اور دوسری مظلوم قوموں کو ہے جو اب بھی آزادی کی صبح دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔  |
بھارت کے ساتھ ساٹھ سال رہ کر انہیں یقینًا بھارت کی جمہوریت بہتر لگتی ہے مگر اس جمہوریت کا کیا فائدہ جب اس کا ثمر انہیں نہ ملے۔ انہیں بھارت کے سیاسی نظام کی مضبوطی پر رشک آتا ہے مگر اس کی کسک ضرور ہے کہ ایسے نظام کو کشمیر میں مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ بات کوئی پوشیدہ نہیں کہ عام کشمیریوں نے مظالم سہے، تباہی اور بربادی کے مناظر دیکھے اس سب کے باوجود یہ کیسا رشتہ ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کے حالات کا ذہن و دل پر گہرا اثر لیتےہیں ۔ جو ملک خود کمزور ترین بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہو کیا اس سے کوئی امید رکھی جا سکتی ہے کوئی تو اس کا جواب دے۔ اس وقت کشمیر میں ہر کوئی یہ دعا کیوں مانگ رہا ہے کہ اللہ پاکستان کو بچا لے۔ شاید پاکستان کے رہنماؤں کو اس کا کوئی احساس نہیں کہ آزادی حاصل کرنا اور آزاد زندگی گزارنا کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے اور یہ احساس شاید صرف کشمیریوں، فلسطینیوں اور دوسری ’مظلوم‘ قوموں کو ہے جو اب بھی آزادی کی صبح دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔
|