بینظیر بھٹو، مشورے اور مجبوریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو ملکی صورتحال پر مشاورت فراہم کرنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ بینظیر بھٹو مذہبی سیاسی جماعتوں سے ہاتھ نہیں ملائیں گی اور برطرف چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگر ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک کا ساتھ دیں گی۔ بینظیر بھٹو نے جمعہ کی شب لاہور میں اپنی نظربندی ختم ہونے کے بعد پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کی رہائش گاہ پر سول سوسائٹی کے نمائندوں سے تفصیلی ملاقات کی تھی اور ان سے موجودہ سیاسی اور آئینی بحران پر صلاح مشورہ کیا تھا۔ اس ملاقات میں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق سے وابستہ لاہور یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو نے ملاقات کے دوران سول سوسائٹی کے ارکان سے کہا تھا کہ وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا گرینڈ الائنس بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس پر ان سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ گرینڈ الائنس بنائیں گی تو اس میں تو وہ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہوں گی جن کا ایجنڈہ واضح ہے کہ وہ اس ملک میں وہ شریعت نافذ کرنا چاہتی ہیں جو ان کی اسلام کی اپنی تشریح پر مبنی ہے تو آپ ان کے ساتھ مل کر کیسے کامیاب ہوسکتی ہیں؟ ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ اس پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ اس وقت دو فالٹ لائنیں ہیں جن پر پاکستان کی سیاست ڈگمگا رہی ہے۔ ایک تو فوج کا سیاسی کردار ہے اور دوسری مذہبی انتہا پسندی ہے اور ان کے بقول وہ ان دونوں میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق بینظیر کو شرکائے اجلاس نے یہ مشورہ دیا کہ انہیں اپنی ہم خیال قوم پرست جماعتوں سے فطری اتحاد بنانا چاہیے۔ ملاقات میں شریک شرکت گاہ نامی تنظیم کی نمائندہ فریدہ شہید نے بتایا کہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بینظیر بھٹو کے سامنے بار بار یہ بات دہرائی کہ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلاء اور سول سوسائٹی کی تحریک کی انہیں کھل کر حمایت کرنی چاہیے۔
’ہمیں امید ہے کہ بینظیر بھٹو ایسی کوئی سودے بازی نہیں کریں گی جس میں انتخابات کی تو یقین دہانی ہو لیکن جمہوریت کی دوسری ضرورتوں کا خیال نہ رکھا جائے اور انتخابات سے پہلے یا بعد برطرف ججوں کی بحالی کا مطالبہ ضرور کریں گی‘۔ فریدہ شہید نے بتایا کہ اجلاس نے تمام شرکاء نے متفقہ طور پر بینظیر بھٹو کو یہ درخواست کی گئی کہ وہ جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کی بات نہ کریں کیونکہ جب تک جنرل مشرف اپنے دونوں عہدے نہیں چھوڑتے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔ اس پر ان کا جواب یہ تھا کہ اصولی طور پر تو وہ ان کے ساتھ ڈیل نہیں کرنا چاہتیں لیکن وہ دیکھیں گی کہ پاکستان کی جمہوریت کی طرف واپسی کے لیے انہیں کہاں راستہ ملتا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر مہدی حسن نے بتایا کہ بینظیر بھٹو نے اس بارے میں کوئی دو ٹوک جواب نہیں دیا تھا کہ جنرل مشرف سے شراکت اقتدار کے سلسلے میں ان کے رابطے مکمل طور پر ختم ہوگئے یا نہیں۔ ’انہوں نے یہ کہا تھا بات چیت جاری رہتی ہے یا نہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کا آگے رویہ کیا ہوتا ہے اب تک جنرل مشرف نے ان سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے اسی لیے انہوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ انہیں اب جنرل مشرف بغیر وردی یا وردی کے ساتھ دونوں صورتوں میں قبول نہیں ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران بینظیر بھٹو کو نو نکاتی تجاویز دی گئیں جس میں بنیادی طور پر انہیں یہ مشورہ دیا گیا کہ سول سوسائٹی نے نو مارچ کے بعد سے اب تک عدلیہ کی آزادی اور جمہوری کلچر کے لیے بہت جدوجہد کی ہے اور بڑی قربانیاں دی ہیں اور اب سیاسی جماعتوں کو آگے آنا چاہیے اور اس جدوجہد کی قیادت سنبھالنی چاہیے۔ ’کیونکہ اب تک ان کی کوششیں اس سطح کی نہیں ہیں جتنی استعداد حزب اختلاف کی جماعتوں میں ہے اور اس وجہ سے وکلاء اور سول سوسائٹی کے دوسرے ارکان تنہا مار کھا رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے تمام باتوں سے اصولی طور پر اتفاق کیا لیکن یہ بھی کہا کہ وہ ان کا تفصیلی جواب بعد میں دیں گی۔ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو سے کوئی بہت زیادہ امید نہیں ہے۔ ’ملک میں اس وقت جو بدامنی ہے اور خاص طور پر انتہاپسند جس طرح فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ وہ کوئی لبرل پارٹی مستحکم حکومت بنانے کی اہلیت رکھتی ہیں یا یہ انتہا پسند ان کی حکومت بننے کی نوبت آنے دیں گے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||