BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نگران وزرائےاعلٰی، کابینہ کا حلف

پنجاب اسمبلی
پنجاب کی نگران کابینہ میں ستر وزراء کو شامل کیا گیا ہے
پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد تینوں صوبوں میں نگران حکومتیں قائم کر دی گئی ہیں اور نگران وزرائے اعلٰی اور ان کی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔

سرحد اسمبلی کے مدت پوری کیے جانے سے قبل توڑنے جانے کی وجہ سے وہاں پہلے ہی نگران حکومت قائم کی جا چکی ہے۔

پنجاب اور سندھ میں ہائی کورٹس کے سابق ججوں اور بلوچستان میں سردار عطاءاللہ مینگل کے برادر نسبتی کو نگران وزیراعلٰی بنایا گیا ہے ۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج شیخ اعجاز نثار کو نگران وزیراعلٰی مقرر کیا گیا ہے۔گورنر ہاؤس کے دربارہال میں پنجاب کے گورنر خالد مقبول نے شیخ اعجاز نثار اور ان کی سترہ رکنی کابینہ سے حلف لیا۔

پنجاب کے نگران وزیراعلٰی نے حلف اٹھانے کے بعدگورنر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا صوبے میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔

پنجاب کی نگران کابینہ میں معروف ماہر تعلیم میرا فیلبوس کو تعلیم،ٹی وی میزبان مبشر لقمان کو انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکشن ورکس، مقبول الہی ملک کو انسانی حقوق، آصف جان کو بلدیات، میاں شفقت کو ہاؤسنگ اور میاں محمد شفیق کو کامرس کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔

دیگر وزراء میں بیرسٹر محمود شیخ کو قانون، سہیل افضل کو خصوصی تعلیم، سعد احسن کو جنگلات و ماہی پروری، جسٹس(ر) آصف جان کو مقامی حکومت، شہزاد اعظم کو محنت و افرادی قوت، سینیٹر دلاور عباس آبپاشی، ولید طارق سہگل ایکسائز اور مخدوم افتخار الحسن کو معدنیات کے محکمے دیے گئے ہیں۔

کوئٹہ

سردار صالح بھوتانی انیس سو ستتر سے سیاست سے وابستہ ہیں
بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق بلوچستان کے نگران وزیر اعلی سردار صالح بھوتانی اور گیارہ رکنی کابینہ نے بھی پیر کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں حلف اٹھا لیا۔سردار صالح بھوتانی بلوچستان کے چھٹے نگراں وزیراعلی ہیں۔

گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نے نگراں وزیراعلی سردار صالح بھوتانی اور گیارہ رکنی کابینہ سے حلف لیا۔ کابینہ میں زیادہ تر قبائلی رہنما اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

نگراں صوبائی وزراء میں سردار سعادت علی ہزارہ، امجد رشید، نواب غوث بخش باروزئی، مراد ابڑو، عارف جان محمد حسنی، ڈاکٹر عطا گل، سردار حیدر خان ناصر، روشن خورشید بروچہ، بیرسٹر میر سیف اللہ خان مگسی، نواب اورنگزیب جوگیزئی اور عبدالغفور بلوچ شامل ہیں۔

بلوچستان کے نگران وزیراعلٰی سردار صالح بھوتانی انیس سو ستتر سے سیاست سے وابستہ ہیں۔ وہ چھ مرتبہ لسبیلہ زیریں سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ سردار صالح بھوتانی سردار عطاءاللہ مینگل کے برادر نسبتی ہیں اور سیاسی اور قبائلی طور پر انہیں اہم مقام حاصل ہے۔

سندھ اسمبلی
سندھ کی نگران کابینہ میں چودہ وزراء شامل ہیں

یاد رہے گزشتہ روز جام محمد یوسف نےگورنر بلوچستان سے اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست کی تھی اورگورنر بلوچستان نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بلوچستان اسمبلی تحلیل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا۔

کراچی
سندھ حکومت اپنی پانچ سالہ معیاد مکمل کرنے کے بعد اتوار اور پیر کی درمیانی شب تحلیل کر دی گئی اور پیر کی سہ پہر نگراں حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ارمان صابر کے مطابق سندھ کے نگراں وزیرِاعلٰی کے طور پر سندھ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس عبدالقادر ہالیپوٹہ نے حلف اٹھایا ہے۔عبدالقادر ہالیپوٹہ ماضی میں سندھ کے وزیرِ قانون بھی رہ چکے ہیں۔

حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں نگران وزیراعلٰی کے علاوہ کابینہ کے چودہ وزراء نے بھی گورنر ہاؤس میں حلف اٹھایا جن میں سے پانچ کا تعلق متحدہ قومی مومنٹ، چار کا پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل)، تین کا پاکستان مسلم لیگ (ق) سے ہے۔

حلف برداری کی تقریب چار گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی اور تاخیر کی وجہ حکام نے آخر وقت تک کابینہ کے ممکنہ ارکان کے ناموں میں تبدیلی بتائی ہے۔

حلف برداری کی تقریب کے بعد نگراں وزیرِاعلٰی عبدالقادر ہالیپوٹہ نے گورنر سندھ سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ وہ اور ان کی کابینہ ایسا کوئی عمل نہیں کرے گی جس سے ان کی غیر جانبدارانہ حیثیت پر حرف آئے۔

سرحد اسمبلیایم ایم اے کا راج
’عوامی فائدے کی قانون سازی نہیں ہوئی‘
بلوچستان اسمبلیاسمبلی کے پانچ سال
جب ریاست ناکام تو مدت سے کیا: اپوزیشن
ارباب غلام رحیمسندھ اسمبلی کے5سال
اسمبلی نے کئی اچھے برے ریکارڈ قائم کیے
مختلف اور متنازعہ
71 کے بعد پہلی اسمبلی جو مدت پوری کر گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد