بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اسمبلی کا سنیچر کو آخری اجلاس ہوا جو 20 نومبر کو تحلیل ہو رہی ہے۔ اٹھائیس نومبر 2002 کو قائم کوہونے والی بلوچستان اسمبلی کا الوادعی اجلاس اس کا 34 واں اجلاس تھا۔ صوبائی اسمبلی کو چار سال گیارہ ماہ بائیس روز قائم رہنے کا اعزاز حاصل رہا جو ایک ریکارڈ ہے۔ اپنی مدت کے دوران اسمبلی کو 45 قراردادیں موصول ہوئیں جن میں سے 37 بل پاس ہوئے جبکہ باقی بل مختلف وجوہات کی بناء پر پاس نہ ہوسکے۔ اسمبلی میں ستر سرکاری قرار دادیں منظور ہوئیں جبکہ 221 غیر سرکاری قراردادوں میں سے 99 قراردادیں منظور ہوئیں۔ اسمبلی کو 76 تحاریک استحقاق موصول ہوئیں جن میں سے 40 نمٹادی گئیں۔ موصول ہونے والی 261 تحاریک التواءمیں سے 204 نمٹا دی گئیں۔
جمال شاہ کاکڑ کے مطابق اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹیاں اپنا مؤثر کردار ادا نہ کرسکیں، اگر اسٹیڈنگ کمیٹیاں اپنا کردار ادا کرتیں تو صورتحال مزید بہتر ہوتی۔ سنیچرکو اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا جس میں مسلم لیگ (ق) اور بی این پی عوامی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے شرکت کی جبکہ متحدہ مجلس عمل کے دو منحرف ارکان آغافیصل اورآمنہ خانم بھی شریک ہوئیں۔ اکتوبردو ہزار دو میں منتخب ہونے والی اس اسمبلی کے پینسٹھ ارکان نے اٹھائیس اکتوبرکو رکینیت کا حلف لیا تھا جس کے بعد صوبے میں مسلم لیگ ق اورمتحدہ مجلس عمل کی ایک مخلوط حکومت اس شرط پر بنی تھی کہ وزیراعلیٰ کا قلمدان مسلم لیگ کے پاس رہے گا جبکہ باقی اہم وزارتیں متحدہ مجلس عمل کے حصے میں آئیں گی، جس کی وجہ سے کئی بار جمعیت اورمسلم لیگ کے درمیان وزارتوں کی تقسیم کے فارمولے پرسخت اختلافات بھی سامنے آئے۔ جمیعت کی حکومت سے علیحدگی کے بعد اس کا آخری اجلاس سنیچرکو جمیعت علماءاسلام سے تعلق رکھنے والے سپیکرجمال شاہ کاکڑ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں زیادہ تر ان حکومتی ارکان نے شرکت کی جن کا تعلق مسلم لیگ ق سے تھا، جبکہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے واحد رکن شفیق احمد خان بھی اس الوداعی اجلاس میں موجود رہے۔ حزب اختلاف کی باقی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تیس ارکان اسمبلی نے اس سال دو اکتوبر کواس وقت اسمبلی کی بنیادی رکنیت سے استعفے دیے تھے جب صدر کے انتخاب کیلئے الیکشن کیمشن نے جنرل پرویزمشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری دی تھی۔ مستعفی ہونے والوں میں جمعیت علماءاسلام کے چودہ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے پانچ اورپشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چارارکان شامل تھے جبکہ جمعیت کے دو ارکان آغافیصل داؤد اور خاتون رکن آمنہ خانم نے مسلم لیگ (ق) کی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کر کے مستعفی ہونے سے انکار کیا تھا۔ استعفوں کے بعد اسمبلی میں ارکان کی تعداد ساٹھ سے کم ہوکر اڑتیس رہ گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام میر محمد یوسف نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کے طعنوں کی پرواہ نہیں، اقتدار آنی جانی چیز ہے ہم عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔
صوبائی وزراءمیر شعیب نوشیروانی ، شمع پروین مگسی، عاصم کرد گیلو، عبدالرحمان جمالی، نسرین کھیتران، امان اللہ نوتیزئی، سید احسان شاہ، اراکین اسمبلی جعفر مندوخیل، روبینہ عرفان، ڈپٹی اسپیکر اسلم بھوتانی اور دیگر نے الوداعی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر رہی ہے صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے کہا کہ ’اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر رہی ہیں جو نہایت ہی خوشی کی بات ہے، ہاں ایک دکھ ضرور ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ چھوٹے صوبوں کی نا اتفاقی کی وجہ سے التواءکا شکار ہو کر رہ گیا‘۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی شفیق احمد خان نے کہاکہ اسمبلیوں کا آئینی مدت پوری کرنا خوش آئند ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسمبلیاں ایسی صورتحال میں اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہیں جب ملک میں آ ئین معطل ہے اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں ہیں، آج اگر اپوزیشن یہاں نہیں تو اس کی وجہ بھی بلوچستان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہے تو پاکستان ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے بلوچستان کے مسائل کو کبھی آئینی و سیاسی سمجھا ہی نہیں، ہمیشہ ان مسائل کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے حالات آج بدتر ہو چکے ہیں صوبے کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں نفرتوں نے جنم نہ لیا ہو ان نفرتوں کو ختم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال ترک کر کے قوم پرست قوتوں سے مذاکرات کے لئے راہ ہموار کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمر جنسی ختم کی جائے آئین مکمل بحال کر کے آزاد الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے ورنہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کاا نعقاد ممکن نہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے سابق لیڈر کچکول علی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ پانچ سال کے دوران بلوچستان میں فوجی آپریشن نئے فوجی چھاؤنیوں کے قیام، گوادرپورٹ اور سہ ملکی گیس پائپ لائن کے حوالے سے منظورشد ہ کسی بھی قرارداد پرمرکزی حکومت نے عمل نہیں کیا۔ بقول کچلول علی کہ جنرل پرویزمشرف نے خود کہا ہے کہ اس دوران ریاست ناکام رہی اورناکام ریاست میں اسمبلیوں کی مدت پو ری ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والی اسمبلی مرکزی اورصوبائی حکومت کی پالیسوں کوجاری رکھتی ہے یا بلوچستان کے قوم پرستوں کو اقتدارمیں شامل کر کے ان کی رضامندی کے تحت صوبے میں ترقیاتی کاموں کوجاری رکھے گی یہ سب ملک میں جنوری میں متوقع عام انتخابات کے بعد ہی واضع ہوگا۔ | اسی بارے میں بلوچستان اسمبلی میں کشیدگی02 October, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بےگھر07 July, 2007 | پاکستان بلوچستان اسمبلی فوج پر برہم24 September, 2003 | پاکستان بلوچستان: بدگمانی کے ساٹھ سال 17 August, 2007 | پاکستان بلوچستان: نیشنل پارٹی کا قیام08 October, 2003 | پاکستان پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 2502 October, 2007 | پاکستان بلوچستان: پولیس کے چھاپے جاری04 November, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ہڑتال اور مظاہرے05 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||