BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 22:34 GMT 03:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: پولیس کے چھاپے جاری

وکلاء کے سینیئر رہنما پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کی رات گئے پولیس نے انسانی حقوق کمیشن سمیت کئی وکلاء کے دفاتر پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کی وجہ سے کئی وکلاء رپوش ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب فرنٹئیر کور نے بلوچستان ہائی کورٹ اور ڈسرکٹ کورٹ سمیت کئی سرکاری عمارتیں اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ پولیس نے سنیچر کی شام سے رات گئے تک کوئٹہ میں مختلف وکلاء کے دفاتراورگھروں پرچھاپے مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

پولیس کے اہلکار کوئٹہ کے عبدالستار روڈ پر واقع انسانی حقوق کمیشن کے ذیلی دفتربھی پہنچ گئے تھے جہاں پولیس کے ایک آفیسرنے کمیشن کے وائس چیئرمین ملک ظہوراحمد شاہوانی ایڈووکیٹ کے بارے میں معلومات کیے اورکہا کہ ان کے پاس ملک ظہور احمد شاہوانی ایڈووکیٹ سمیت پچپن وکلاء کے نام ہیں جن کوگرفتارکرنا ہے۔

یہ لسٹ بقول پولیس کے ملک خفیہ ادارے آئی بی نے اسلام آباد سے جاری کی ہے جس میں بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری قاہرشاہ علی احمد کرد ایڈووکیٹ سمیت کئی حکومت مخالف وکلاء کے نام شامل تھے۔

ان میں ہادی شکیل، قاہرشاہ ایڈووکیٹ، علی احمد کرد اور سخی سلطان ایڈووکیٹ پہلے ہی کوئٹہ رحیم یار خان اوراسلام آباد سے گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ بلوچستان بارایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ، نائب صدر ہاشم کاکڑ اورجنرل سیکریڑی ابراھیم لہڑی سیمت دیگر وکلاء روپوش ہوگئے ہیں جن میں سے زیادہ ترنے موبائل فون بھی بند کر رکھے ہیں۔

پولیس کے چھاپوں کی اطلاع ملتے ہی کوئٹہ میں کئی وکلاء اپنے دفاتر بند کر کے گھروں کی بجائے رات گزارنے کے لئے کہیں اور چلے گئے۔ اس موقع پر جب میں نے ایک وکیل طاہرخان سے پوچھا کہ وہ گرفتاری سے کیوں خوفزد ہیں تو جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی مرکزی اور صوبائی قیادت نے وکلاء کومزیدگرفتاریوں سے منع کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ایسااس لیے کیا گیا ہے تا کہ ہم گرفتارقائدین کی غیرموجودگی میں جنرل پرویزمشرف حکومت کے خلاف تحریک چلاسکیں۔‘ طاہرخان کے مطابق ان کی قیادت نے تما م عہدیداروں کو عدالتوں میں نہ جانے کی تلقین کی ہے۔ تاہم پیر کے روز ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی وکلاء کی ہڑتال ہوگی۔

دوسری جانب صوبائی حکومت نے ڈسرکٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کی عمارتوں میں فرنٹیئر کور کوتعینات کر دیا ہے جسکی وجہ سے دوسرے وکلاء میں بھی خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس کے علاوہ پولیس اورفرنٹیئر کور نےگورنراور وزیراعلی ہاؤس جانے والے راستوں کی مکمل ناکہ بندی کردی ہے۔ ساتھ ہی شہر کے مختلف مقامات پرگاڑیوں اور رکشاؤں پر سفرکرنے والے افراد کی تلاشی بھی شروع کر دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈی آئی جی کوئٹہ رحمت اللہ نیازی سے رابطہ کرنے پرانہوں نے بتایا کہ اتوار کو پولیس نے درجنوں افراد کوگرفتار کیاہے تاہم وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ گرفتار ہونے والوں میں وکلاء اور سیاسی ورکرشامل ہیں یا نہیں البتہ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

پولیس رکاوٹیںایمرجنسی کے بعد
ہنگامی حالت کے نفاد کے بعد پہلی صبح: تصاویر
ایمرجنسی پر احتجاجایمرجنسی پر احتجاج
ہنگامی حالت کے نفاذ پر احتجاج اور گرفتاریاں
جسٹس خواجہ شریف’پرامن احتجاج کریں‘
اب تو انتہا ہوگئی ہے: جسٹس خواجہ شریف
جب ایمرجنسی لگی
ایمرجنسی کا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
 رانا بھگوان داس’آج بھی جج ہوں‘
’پیر کوعدالت جاؤں گا، پی سی آو غیر آئینی ہے‘
پاکستانایمرجنسی و بمباری
پاکستان ایمرجنسی اور بوڑیشال بمباری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد