BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 July, 2007, 00:17 GMT 05:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بےگھر

بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی امداد نہیں پہنچ رہی ہے
بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی امداد نہیں پہنچ رہی ہے
بلوچستان کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ سیلاب اور بارشوں میں بیس ہزار سے زیادہ مکان پانی میں بہہ گئے ہیں جس سے ڈیڑھ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر اضلاع سے لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں امداد نہیں مل رہی جبکہ جعفر آباد میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

حالیہ سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان کے علاقے تربت اور جھل مگسی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں صوبائی حکومت کے مطابق دس ہزار کے لگ بھگ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعہ کو تربت کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت وردی والے ہی بلوچستان کے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں اور پنجاب سے بڑی مقدار میں امدادی اشیاء بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔

توقع ہے کہ صدر پرویز مشرف کل ڈیرہ مراد جمالی کا دورہ کریں گے۔ جعفر آباد سے مقامی صحافی ہاشم بلوچ نے بتایا ہے کہ بالائی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے جعفرآباد میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ محمکۂ آبپاشی کے حکام کے مطابق سندھ حکومت نے پانی کے نکاسی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں جس سے جعفرآباد میں اس وقت کوئی ساڑھے تین لاکھ کیوسک پانی جمع ہوگیا ہے۔ صوبائی سیکرٹری داخلہ نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس بارے میں ماہرین سے رابطہ کیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بیس ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

اکثر علاقوں سے تاحال لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں امدادی اشیاء نہیں مل رہیں۔ پاک ایران سرحد کے قریب آباد علاقے جیسے زعمران اور ادھر آواران، خضدار کے علاقے کرخ مولا کے علاوہ جھل مگسی کے دیہی علاقے اور ادھر بولان اور جعفرآباد میں لوگ کھلے آسمان تلے شدید گرمی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہلاکتوں کے حوالے سے حکومت نے ایک سو چونتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن جمعہ کو نصیر آباد کے علاقے تمبو سے تین اور آواران میں جاؤ کے علاقے سے ایک لاش نکالی گئی ہے۔ آواران سے مقامی صحافی عبدالرشید نے بتایا کہ جاؤ کے علاقے سے اب تک سیلابی ریلے سے چھیالیس لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے لاشیں مسخ ہو چکی ہیں اور انہیں ملبے کے نیچے سے نکالا بھی جاسکتا ہے۔

سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں امدادی کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ خضدار سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر اکبر مینگل نے کہا ہے کہ ان کے کیمپ کو پولیس نے اکھاڑ دیا ہے اور مستعفی رکن قومی اسمبلی عبدالرؤف مینگل کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے کہ نقص امن کے تحت کسی لیڈر کو گرفتار کیا جائے۔ اس بارے میں پولیس حکام کے رابطہ نہیں ہو سکا۔

احمد علی شاہ کھارو چھان کا احوال
’سمندری طوفان کی کوئی اطلاع نہیں تھی‘
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
فائل فوٹوپاکستان میں بارشیں
ملک کے بیشتر علاقے بارشوں کی زد میں
طوفان اور وارننگ؟
طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی: متاثرین
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد