’سرحد اسمبلی پر ایم ایم اے کا راج‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحداسمبلی، گو کہ، حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مبنی آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ اور وفاقی حکومت کے مابین سیاسی جنگ کے نتیجے میں اپنی پانچ سالہ آئینی مدت سے تقریباٌ ڈیڑھ ماہ پہلے صوبائی وزیرِاعلیٰ کے ایماء پر آٹھ اکتوبر کو توڑ دی گئی لیکن اسمبلی کی چار سال اور ساڑھے دس ماہ کی مدت کے دوران متحدہ مجلسِ عمل نے اس کے معاملات بلا شرکتِ غیر نبٹائے ۔ ایک سو چوبیس ارکان پر مشتمل صوبہ سرحد اسمبلی میں متحدہ مجلسِ عمل کے ارکان کی تعداد ستر کے قریب تھی ۔ واضح عددی برتری کے سبب صوبائی حکومت کو ٹکڑوں میں تقسیم حزبِ اختلاف سے کوئی خاطر خواہ چیلنج کا تو سامنا نہ کرنا پڑا لیکن صوبائی حکومت پھر بھی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل سے مبصرین کو متاثر نہ کر سکی۔ اسمبلی میں قانون سازی کے عمل کا مشاہدہ کرنے والے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے پشاور میں سینیئر صحافی محمد ریاض نے صوبائی اسمبلی کی کارکردگی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس دور میں کوئی ایسی قانون سازی نہ ہوئی جس سے عوام کو فائدہ ہوا ہو البتہ حکمرانوں نے اپنی ضرورت کے مطابق موجودہ قوانین میں کہیں کہیں ترامیم کیں‘۔ سرحد اسمبلی نے کل پچپن بل منظور کیے جن میں اڑتیس موجودہ قوانین میں ترمیم سے متعلق تھے ۔ نئے قوانین میں سب سے اہم متفقہ طور پر منظور کیا گیا شریعت بل بھی شامل تھا جس پر عملدرآمد صرف اس حد تک ہوسکا کہ حکومت نے قانونِ شہادت میں چند ترامیم علما ء کی تجاویز کی روشنی میں کر دیں ۔ اس کے علاوہ شریعت کےقانون کے تحت صوبے کے تعلیمی ، معاشی نظام میں اسلامی قوانین کے مطابق ترامیم کرنے کے حوالے سے گذشتہ حکومت کا خواب شرمندہءِ تعبیر نہ ہوسکا ۔ اس کے علاوہ دو مرتبہ سپریم کورٹ سے غیر آئینی قرار دیے جانے کے سبب حسبہ بل کو بھی عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا ۔ اسمبلی کی کارکردگی کو شاندار اور مثالی قرار دیتے ہوئے متحدہ مجلسِ عمل کے دور کے وزیرِ قانون ملک ظفر اعظم نے کہا کہ ’ ہم نے پانچ بجٹ متفقہ طور پر پاس کرائے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے سب کا خیال رکھا‘۔ صوبائی اسمبلی نے کُل نو سو تریسٹھ قراردادیں منظور کیں جن میں سے تین سو چون متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی نے دو سو اکانوے تحاریکِ استحقاق پیش کیں جن میں ایک سو پینتیس محرکین کی جانب سے زور نہ دیے جانے کے سبب ختم ہوگئیں ۔ اسمبلی کی کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے گزشتہ صوبائی اسمبلی کے حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن اسرار اللہ گنڈاپور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’قانون سازی کے اعتبار سے تو اسمبلی کی کارکردگی قابلِ اطمینان تھی اور سپیکر نے اس سلسلے میں حزبِ اختلاف کو ملا کر اسمبلی کو چلایا لیکن جہاں تک عملدرآمد کا تعلق ہے تو یقیناٌ اسمبلی کا یہ پہلو کافی کمزور رہا ہے‘۔ اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے کردار کے حوالے سے صحافی محمد ریاض نے کہا کہ ایم ایم اے کی حکومت نے ویسے اسمبلی کے اندر اختلافی رائے رکھنے والوں کا کچھ زیادہ خیال تو نہ کیا لیکن ساتھ ہی حزبِ اختلاف نے بھی حکومتی بینچوں کو کوئی خاطر خواہ مشکل میں نہ ڈالا اور اکثر حکومت کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچایا ۔ | اسی بارے میں ’رکاوٹوں کے باوجود ترقی کا عمل جاری‘18 November, 2007 | پاکستان بلوچستان اسمبلی تحلیل کر دی گئی18 November, 2007 | پاکستان بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال17 November, 2007 | پاکستان سندھ اسمبلی کے اچھے برے پانچ سال16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||