سیاسی کارکنوں کی رہائی کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اور سندھ کے نگراں وزرائے اعلٰی نے دونوں صوبوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گرفتار اور نظر بند کیے جانے والے وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ عبدالقادر ہالیپوٹہ نے صوبے میں نظر بند وکلا اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے جس کے بعد سندھ حکومت نے ایم پی او کے تحت قید اور نظر بند سیاسی کارکنوں اور وکلا کی گرفتاری کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے سیکرٹری غلام محمد محترم نے بی بی سی کو بتایا کہ رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں وکلا کی رہائی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔سینٹرل جیل کراچی کے باہر موجود ایڈووکیٹ مسعود احمد نے بتایا کہ بڑی تعداد میں وکلاء جیل کے باہر جمع ہو رہے ہیں مگر ابھی تک کسی وکیل کی رہائی عمل میں نہیں آئی ہے تاہم جیل حکام کا کہنا ہے کہ رہائی کے آرڈر بنائے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل حلف برداری کے بعد سندھ کے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں انتخاباتات کے ماحول کو ساز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بغیر کسی تفریق کے تمام نظربند لوگوں کو رہا کیا جائے تاکہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ جسٹس ریٹائرڈ عبدالقادر ہالیپوٹہ نے حلف لینے کے بعد پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی۔ اس موقع پر اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ انتخابات شفاف اور آزادانہ ماحول میں ہوں اور نگران سیٹ اپ کے کوئی دیگر عزائم نہیں ہیں۔
ادھر پیر کو بلوچستان کے نگراں وزارت اعلٰی کا حلف اٹھانے کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ صوبے میں غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور اس سلسلے میں وہ تمام وکلاء سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کا اعلان کرتے ہیں۔ سردار صالح بھوتانی سے جب پوچھا گیا کہ اس وقت بلوچستان میں فوجی آپریش ہو رہا ہے اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے حوالے سے اقدامات ضرور کیے جاتے ہیں تاکہ حکومت کی رٹ قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے تمام لوگ صوبے کی ترقی میں حصہ لیں اور یہ سب کا صوبہ ہے اس لیے وہ ناراض لوگوں سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی ناراضی دور کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ ہر جگہ جانے کے لیے تیار ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سابق حکومت نے اسمبلی کے تحلیل سے ایک روز پہلے اپنے اراکین کے لیے کروڑوں روپے کے منصوبے جاری بنائے ہیں تو کیا اس سے شفاف انتخابات ہو سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی زیادہ معلومات تو نہیں ہیں لیکن یہ رقوم بلوچستان کے تمام اضلاع کے لیے جاری کی گئی ہیں۔ | اسی بارے میں نگران وزرائےاعلٰی، کابینہ کا حلف 19 November, 2007 | پاکستان بلوچستان اسمبلی تحلیل کر دی گئی18 November, 2007 | پاکستان بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال17 November, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ہڑتال اور مظاہرے05 November, 2007 | پاکستان بلوچستان: پولیس کے چھاپے جاری04 November, 2007 | پاکستان ملک میں گرفتاریاں نظر بندیاں03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||