BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 October, 2007, 09:44 GMT 14:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند ایجنسی، سکول بدستور بند

مہمند ایجسنی میں بھی گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ’شدت پسندی‘ کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مبینہ ’شدت پسندوں‘ کی طرف سے ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت کے بعد لڑکیوں کے بند ہونے والے درجنوں سکول تین ہفتے گزرنے کے باوجود بھی بند پڑے ہیں۔

مہمند ایجنسی کے ایجوکیشن افسر ہاشم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً تین ہفتے قبل نامعلوم مسلح افراد نے چارسدہ سے تعلق رکھنے والی ایک استانی کو مبینہ طور پر قتل کردیا تھا جس کے بعد اساتذہ کی تنظیم نے مہمند ایجسنی کے تحصیل حلیم زئی اور لکڑو میں عدم تحفظ کی بناء پر لڑکوں اور لڑکیوں کے درجنوں اسکول بند کردیے تھے تاہم ان کے بقول لڑکوں کے سکول اب دوبارہ کھل چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان دونوں تحصیلوں میں لڑکیوں کے تقریباً پچاس سکول اب بھی بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے دو ہزار کے قریب طالبات تعلیم کے حصول سےمحروم ہوگئی ہیں۔ان کے بقول مہمند ایجنسی میں خدمات سرانجام دینے والی زیادہ تر خواتین اساتذہ کا تعلق صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں چارسدہ، مردان، نوشہرہ اور صوابی سے ہے۔

ہاشم کا کہنا تھا کہ استانیوں کوگزشہ کچھ عرصے سے برقعہ اوڑھ کر سکول جانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں تاہم قتل کی جانے والی استانی کو برقعہ اوڑھنے کے باوجود نشانہ بنایا گیا تھا۔ان کے مطابق مقامی انتظامیہ سکول کھولنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں قبائلی عمائدین اور مقامی طالبان کے درمیان کامیاب مذاکرات بھی ہوچکے ہیں۔انکے بقول طالبان نے خاتوں ٹیچر کی ہلاکت سے لاعلمی ظاہرکرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ علاقے میں خدمات سرانجام دینے والی استانیوں کو آئندہ بھی کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

طالبان کی لاعلمی
 طالبان نے خاتوں ٹیچر کی ہلاکت سے لاعلمی ظاہرکرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ علاقے میں خدمات سرانجام دینے والی استانیوں کو آئندہ بھی کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا
ایجوکیشن افسر

مہمند ایجسنی میں اساتذہ تنظیم کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون ٹیچر کی ہلاکت کے بعد اساتذہ میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے تاہم سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے حکومتی یقین دہانیوں کے بعد لڑکوں کے سکولوں کو اب دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سکولوں کی بندش کی وجہ سے طلباء و طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ دیگر قبائلی علاقوں کی طرح مہمند ایجسنی میں بھی گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ’شدت پسندی‘ کے مبینہ وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم یہ شاید واحد ایجنسی ہے جہاں پر عدم تحفظ کے پیش نظر لڑکیوں کے
سکول بند ہوئے ہیں۔

حاجی رسول خان محسود کراچی میں رہنے والے قبائلیکراچی میں قبائلی
قبائلی علاقوں سے باہر قبائلی فکر مند
وزیرستان’ہرشخص طالب ہے‘
’فوج نہ ہٹائی گئی تو امن کا قیام ناممکن ہے‘
پاکستان قبائلی فائل فوٹو مہمند ایجنسی
غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے کا معاہدہ
اسی بارے میں
مہمند ایجنسی: عورت کا سر قلم
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد