سوات و شانگلہ: ہلاکتوں کے دعوے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شمالی اضلاع سوات اور شانگلہ میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستان فوج کے مورچوں پر مبیینہ عسکریت پسندوں کے حملوں کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کے متضاد دعوے کیے گئے ہیں۔ سوات میں میڈیا انفارمیشن سنٹر کی جانب سے منگل کی شام جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق شانگلہ اور سوات میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بتیس مبیینہ عسکریت پسند ہلاک اور اسی زخمی ہوئے۔ حکومتی دعوے کی نفی کرتے ہوئے حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے کہا کہ شانگلہ میں فوجی حملے میں اُن کے چھ ساتھی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ شانگلہ میں لڑائی کے دوران فوج کے پچاس سے ساٹھ سپاہی ہلاک ہوئے۔میڈیا انفارمیشن سنٹر کے ترجمان امجد اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سراج الدین کے اس دعوے کی تردید کی ہے ۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق سوات کی تحصیل چارباغ کے گاؤں کوٹ نواکلے میں ’عسکریت پسندوں‘ کے ٹھکانے پر حملے میں بیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے، جبکہ ضلع شانگلہ کے صدر مقام الپوری کے قریب واقع ایک گاؤں میں مبیینہ عسکریت پسندوں کے مورچوں کو نشانہ بنانے کے نتیجےمیں دس ’عسکریت پسند‘ ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان کی لاشیں ضلع سوات کے علاقے مٹہ کے ہسپتال لائی گئیں۔ اس کے علاوہ پریس ریلیز کے مطابق دو لاشیں سوات کی تحصیل چارباغ کے گاؤں دکوڑک لائی گئیں۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ دکوڑک لائی گئی لاشوں میں ایک لاش عسکریت پسندوں کے اہم اور سرکردہ رکن محمد امین کی ہے۔ محمد امین حکومت کو نیشنل بنک چپڑیال / سوات میں ہونے والی ڈکیتی میں مطلوب بتائے جاتے تھے۔
سوات میں میڈیا انفارمیشن سنٹر کے انچارج امجد اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل چارباغ کے گاؤں کوٹ نوےکلے میں ’عسکریت پسندوں‘ نے لڑکیوں کے ایک سرکاری سکول کی عمارت پر قبضہ کرکے اُسے ’جیل‘ طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ’اُن کے اس ٹھکانے کو آرٹلری گن (توپ) سے نشانہ بنایا گیا۔ حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین سے جب بی بی سی نے منگل کے روز سرکاری سکول کی عمارت کو عقوبت خانے میں تبدیل کرنے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جہاں تک لڑکوں کے سکولوں کا تعلق ہے تو اُس پر قبضہ نہیں کیا گیا البتہ لڑکیوں کے سکولوں کے بارے میں پالیسی مختلف ہے۔ اُنہوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب حکومت کی جانب سے ’توپوں‘ کے استعمال سے عام شہریوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر بھاری اسلحے کا استعمال نہ روکا گیا تو ’جوابا‘ فوج کے اُن سپاہیوں کو قتل کردیا جائے گا جو ہماری تحویل میں ہیں‘۔ حکام نے پاکستان فوج کے سپاہیوں کو تحویل میں لینے کے حوالے سے کیے گئے سراج الدین کے دعوے کی تردید کی ہے۔ شانگلہ اور سوات میں مبیینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملہ کے لیے پاکستان فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹر اور آرٹلری کا استعمال کیا گیا۔ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کوشش کی جارہی ہے کہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال نے بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فوجی آپریشن ابتدائی مراحل میں ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے مینگورہ روڈ پر فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار منگل کو نئے مورچے اور نئی چیک پوسٹیں بناتے ہوئے دیکھے گئے۔ |
اسی بارے میں سوات، مالاکنڈ میں کرفیو نافذ16 November, 2007 | پاکستان سوات میں حکومتی کارروائی میں دیر کیوں؟15 November, 2007 | پاکستان سوات، شانگلہ میں لڑائی، متعدد ہلاک15 November, 2007 | پاکستان سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک14 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ 13 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||