سوات، مالاکنڈ میں کرفیو نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کی وادی سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ مینگورہ کے پاس کانجو میں پہلی بار شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جمعہ کی شام سوات کے مختلف علاقوں میں لاؤڈ سپیکروں سے اعلانات کیے گئے جس میں رات دو بجے سے لیکر سنیچر کو دوپہردو بجے تک سوات کے تمام علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا۔ مالاکنڈ ایجنسی میں بھی حکام نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں بارہ گھنٹوں تک کرفیو کے نفاذ کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر کرفیو کے نفاذ کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے سوات منتقل کرنے کے لئے کرفیو لگا دیا گیا ہے تاکہ فورسز کی پرامن نقل وحمل کو یقینی بنایا جائے۔ دو روز قبل بھی سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں بارہ گھنٹوں تک کرفیو لگا دیا تھا تاہم اس کے باوجود کرفیو کے دوران ایک فوجی قافلے پر چکدرہ کے مقام پر حملہ ہوا تھا جس میں آٹھ فوجی جوان زخمی ہوئے تھے۔ دوسری طرف سوات میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مقامی طالبان کے خلاف کاروائیوں میں عسکریت پسندوں کے ایک مورچے اور دو گاڑیوں کو تباہ کیا ہے۔ مینگورہ میں پہلی بار صحافیوں کو سوات کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے وزارت اطلاعات اسلام آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر امجد اقبال نے کہا کہ جمعہ کو توپ بردار ہیلی کاپٹروں اور سکیورٹی فورسز کی گولہ بھاری سے عسکریت پسندوں کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں ان کے مطابق جنگجوہ کی دو گاڑیوں اور یک مورچے کو تباہ کیا گیا ہے۔تاہم سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں ان کی ایک خالی ڈبل کیبن گاڑی تباہ ہوگئی ہے جبکہ دوسری ایک سویلین گاڑی تھی۔ ادھر توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے پہلی بار صدر مقام مینگورہ کے قریب واقع سکیورٹی فورسز کے زیر کنٹرول علاقے کانجو میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے جس میں ایک بچہ زخمی ہوگیا ہے۔ جمعہ کی صبح بارہ بجے کے قریب ایک گن شپ ہیلی کاپٹر نے ایف سی کیمپ کانجو پر پرواز کیا اور وہاں شہری آبادی پر کچھ گولے گرائے جس سے ایک بچے کے زخمی ہونے کے علاوہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے زیر کنٹرول علاقے اور حکومتی اہلکاروں کے بڑے سے بڑے کیمپ کے نزدیک شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعہ پر کانجو کے لوگوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کیے جائیں اور شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ شانگلہ میں جھڑپیں اور ہلاکتیں شانگلہ میں موجود مقامی صحافی احسان داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی طالبان نے جمعہ کی صبح وفاقی وزیر امیر مقام کے گاؤں پرون میں پولیس چوکی پر حملہ کیا تاہم بعد میں مقامی لوگوں کی درخواست پر عسکریت پسندوں نے چوکی کا قبضہ چھوڑ کر قریبی علاقوں میں مورچہ زن ہوئے۔ دوسری طرف شانگلہ کے صدر مقام الپوری پر بدستور مقامی عسکریت پسندوں کا قبضہ برقرار ہے۔ یادرہے کہ سوات اور شانگلہ میں جاری جھڑپوں میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 80 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں سوات میں عسکریت پسند کہاں کہاں؟08 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی قافلے پر بم حملے09 November, 2007 | پاکستان سوات: میجر سمیت سات اغواء10 November, 2007 | پاکستان جنگجوگروہوں کا مضبوط نیٹ ورک11 November, 2007 | پاکستان سوات:انتظامی کنٹرول فوج کے پاس12 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ 13 November, 2007 | پاکستان مالاکنڈ ڈویژن: کچھ علاقوں میں کرفیو13 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||