BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 November, 2007, 04:17 GMT 09:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ

سوات سکیورٹی اہلکار(فائل فوٹو)
ایف سی کیمپ سے فائرنگ میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے
پاکستان میں صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوج کی جانب سے مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر بھارتی ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ دن کے گیارہ بجے کے قریب گن شپ ہیلی کاپڑوں نے تحصیل مٹہ اور قبل میں مقامی شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس میں مقامی لوگوں کے مطابق چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تصدیق کی ہے تاہم ان کے مطابق ہلاک یا زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔

جبکہ سیدو شریف کے ائرپورٹ سے سکیورٹی کی طرف سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے اور فضا میں گن شپ ہیلی کاپڑ بھی پرواز کر رہے ہیں۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے ک کانجو اور دم غار میں شہری آبادی پر بمباری کی وجہ سے گھروں اور دو سکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل پیر اور منگل کی درمیانی شب فائرنگ سے ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر یہ فائرنگ سوات کے علاقے کانجو میں واقع ایف سی کے کیمپ سے کی جا رہی ہے۔

طالبان قبضہ برقرار
 سوات کے تین تحصیلوں خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل کے کچھ علاقوں پر طالبان کا قبضہ بدستور برقرار ہے اور وہاں پر قائم تقریباً تمام پولیس تھانوں پر عسکریت پسندوں کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔ کچھ علاقوں میں سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں پر طالبان بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں

دریں اثناء سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے کہا ہے کہ فوجی آپریشن کی صورت میں وہ بھرپور مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ لڑائی میں فوج کا مقابلہ نہ کر سکے تو گوریلا کارروائیاں کریں گے۔

مقامی صحافی شیرین زادہ کانجو کے مطابق جن علاقوں کے لوگ نقل مکانی کے بعد اپنے گھروں کو واپس واپس آئے تھے وہاں پیر کی بمباری کے بعد لوگ دوبارہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی سوچ رہے ہیں۔ تازہ بمباری سے علاقے میں ایک بار پھر سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

دوسری طرف سوات کے تین تحصیلوں خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل کے کچھ علاقوں پر طالبان کا قبضہ بدستور برقرار ہے اور وہاں پر قائم تقریباً تمام پولیس تھانوں پر عسکریت پسندوں کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد چار باغ، گلی باغ، خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل کے کچھ علاقوں میں سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں پر بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں۔

سوات میں تقریباً تین ہفتے قبل سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامیوں اور سرکاری فورسز کے مابین شدید جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔

 عسکریت پسندوں کی چندہ مہمسوات میں چندہ مہم
سوات میں عسکریت پسندوں کی مالی مدد
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
اہلکار یرغمال
سوات میں فوجی آپریشن پر سوال
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
اسی بارے میں
سوات: میجر سمیت سات اغواء
10 November, 2007 | پاکستان
سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا
09 November, 2007 | پاکستان
سوات میں فوجی آپریشن پر سوال
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد