عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فقیر محمد نے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز کیساتھ برسر پیکار طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ یرغمال بنائے جانے والے اہلکاروں کیساتھ اچھا رویہ روا رکھیں اور انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ اتوار کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فقیر محمد نے طالبان سے کہا وہ فوج کی بجائے جنرل پریز مشرف کے خلاف لڑیں کیونکہ بقول ان کے انہوں نے امریکی صدر بش کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوکر ملک میں ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جسکے نتیجے میں آج پاکستانی فوجیوں کو گلا کاٹ کر مارا جارہا ہے۔ ان کے مطابق’ ضلع سوات میں سرگرم طالبان نے سکیورٹی فورسز کے جن اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہے وہ ان کے ساتھ حسن و اخلاق سے پیش آئیں اور جس جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے’ ہھتیار ڈالے، ہیں طالبان کو اس کے جواب میں کئی گناہ زیادہ اخلاق اور احترام سے پیش آنا چاہئے‘۔ انہوں مزید کہا کہ انہیں فوجیوں کے گلے کاٹ کر مارے جانے پر انتہائی افسوس ہے اور آئندہ کوشش کی جائے گی کہ اس قسم کا فعل دوبارہ سرزد نہ ہو تاہم خود فوج کو بھی اب یہ سوچنا چاہئے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی وہ پرانی محبت اور رعب دبدبہ کیوں باقی نہیں رہا کہ آج یہی لوگ ان کے سرتن سے جدا کرنےپر کمربستہ ہوگئے ہیں۔ مولانا فقیر محمد نے کہا کہ پاکستانی فوج ہماری اپنی فوج ہے جبکہ سرکاری املاک کو ہم اپنا قومی سرمایہ سمجھتے ہیں لیکن بقول انکے جنرل پریز مشرف نے بیرونی قوتوں کی ایماء پر ان تمام چیزوں کو داؤ پر لگادیا ہے۔  |  شریعت، میں عورت کی حکمرانی ناجائز ہے تاہم اقتدا ر میں آنے کے بعد ہی طالبان اس سلسلے میں اپنی پالیسی واضح کریں گے  مولانا فقیر محمد |
ان کے دعوی کے مطابق پاکستان میں القاعدہ، اسامہ بن لادن یا مقامی طالبان کے نام سے جو مسلح افراد سکیورٹی فورسز کیساتھ برسرپیکا ہیں وہ حالات خراب نہیں کرنا چاہتے بلکہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔پاکستان میں ایمر جنسی کے نفاذ کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا فقیر محمد کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف نے ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے ذریعےدہشت گردی اور انتہاپسندی پر قابو پانے کا جو دعوٰی کیا ہے وہ غلط ہے کیونکہ ان کے اس اقدام کے باوجود طالبان کی سرگرمیوں میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ’ایمر جنسی کے ہونے یا نہ ہونے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جنرل مشرف کو اپنے آپ پر خود ہی ایمر جنسی نافذ کرنی چاہیئے تھی کیونکہ جن حالات کے تحت انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے یہ تو ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں لیکن انہوں نے الٹا قوم، عدلیہ، چیف جسٹس، وکلاء اور صحافیوں کو سزا دی ہے‘۔ بے نظیر کے اقتدار میں آنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’شریعت، میں عورت کی حکمرانی ناجائز ہے‘ تاہم اقتدا ر میں آنے کے بعد ہی طالبان اس سلسلے میں اپنی پالیسی واضح کریں گے۔ یاد رہے کہ مولانا فقیر محمد نے ضلع سوات میں دو ہفتے قبل مقامی طالبان کے خلاف مبینہ فوجی آپریشن پر احتجاج کرتے ہوئے اجوڑ میں حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ |