سوات میں عسکریت پسند کہاں کہاں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف کی حکومت ملک میں جہاں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہے وہاں اس کا بھرپور فائدہ اور کہیں نہیں تو کم از کم سوات کے عسکریت پسند ضرور اٹھا رہے ہیں۔ غیریقینی حالات میں مزید اضافے کو دیکھتے ہوئے سکیورٹی اہلکار خاموشی سے تھانے اور کیمپ چھوڑ کر جانے لگے تو ملا فضل اللہ کے حامیوں نے ان پر قبضہ شروع کر دیا۔ عسکریت پسندوں نے اپنے گڑھ مٹہ اور منگلور سے شمال کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہے۔ ان کا تازہ پڑاؤ سیدو شریف سے سو کلومیٹر شمال میں کالام تھا۔ تاہم سکیورٹی ایجنسیوں کی مداخلت پر نہیں بلکہ مقامی عمائدین کے کہنے پر جس طرح خاموشی سے آئے تھے اسی طرز پر واپس لوٹ گئے۔ سیدو شریف سے محض تیرا چودہ کلومیٹر کی دوری پر چار باغ کے علاقے سے عسکریت پسندوں کا حلقہِ اختیار شروع ہو جاتا ہے۔ تو آخر شمالی کی جانب ہی کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ ان علاقوں میں پسماندگی اور حکومت کی عدم توجہ قرار دی جاسکتی ہے۔ شدت پسند جنوب کی جانب فل الحال نہیں آ سکتے کہ یہاں سے سیدو شریف جیسے تعلیم یافتہ اور قدرے بہتر سرکاری کنٹرول والے علاقوں کا آغاز ہوتا ہے۔ دوسرا ان کی حمایت ان شمالی سوات کے علاقوں میں ماضی میں بھی رہی ہے اور اب بھی ہے۔ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی نوے کی دہائی کے اوائل میں پرتشدد تحریک کا گڑھ یہی علاقے تھے۔ سیدو شریف سے شمال کی جانب سفر کریں تو اونچے اونچے پہاڑوں کے درمیان بہنے والے دریائے سوات کے دائیں بائیں مدین، بحرین اور کالام جیسے سیاحتی مقامات واقع ہیں۔ مقامی شدت پسند ناصرف دریائے سوات بلکہ ایک روایت کے مطابق سکندر اعظم کی فوج کے روٹ کے بھی مخالف سمت میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں حکومت اور بین الاقوامی برادری کی شدید مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ لیکن جب سے پاکستان میں ہنگامی حالت کا نفاذ ہوا ہے وہاں سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی رک سی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عسکریت پسند مدین اور بحرین سمیت کئی علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں سوات: سکیورٹی اہلکاروں کا اغوا اور رہائی02 November, 2007 | پاکستان سوات: نقل مکانی کرنے والوں کا المیہ01 November, 2007 | پاکستان ’سکیورٹی اہلکار علاقہ چھوڑ گئے‘03 November, 2007 | پاکستان سوات میں فوجی آپریشن پر سوال03 November, 2007 | پاکستان ’مزید ایک سو اہلکاروں کا اغوا‘03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||