BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 09:33 GMT 14:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سکیورٹی اہلکار علاقہ چھوڑ گئے‘

 مٹہ پولیس سٹیشن
مٹہ پولیس کی بکتربندگاڑی عسکریت پسندوں کے قبضےمیں ہے
سوات میں سرگرمِ عمل عسکریت پسندوں کے رہنما مولانا فضل اللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ان کی تحویل میں آنے والے سکیورٹی اہلکار اب اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔

تاہم سرکاری ذرائع سے نہ تو اہلکاروں کے قبضے میں لیے جانے اور نہ ہی انہیں چھوڑے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے مولانا سراج الدین نے بتایا کہ مٹہ میں تعینات ایف سی اور پولیس کے ایک سو بیس اہلکاروں نے ان سے جمعرات کو رابطہ کیا تھا اور حفاظتی تحویل میں لینے کی درخواست کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو ذرائع ابلاغ نے اہلکاروں کو تحویل میں لیے جانے کے حوالے سے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ان اہلکاروں کو اغوا نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے ان کی تحویل میں آئے تھے۔

مولانا سراج الدین نے بتایا کہ’ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں پر گولی نہیں چلانا چاہتے‘۔ ترجمان کے مطابق یہ لوگ ایک رات ان کی تحویل میں رہے اور سنیچر کی صبح علاقے سے روانہ ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ان اہلکاروں کو اغواء کیا گیا یا انہوں نے ہتھیار ڈالے تاہم یہ لوگ علاقہ چھوڑتے ہوئے اپنے ہتھیار چھوڑ کر گئے جو اب عسکریت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔

پولیس کا کوئی اہلکار مٹہ تھانے میں موجود نہیں ہے

اس سوال پر کہ ان اہلکاروں کو ذرائع ابلاغ کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا مولانا سراج الدین کا کہنا تھا کہ جب ان اہلکاروں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تو انہوں نے درخواست کی تھی کہ انہیں میڈیا کے سامنے نہ لایا جائے اور اسی وعدے کے تحت انہیں صحافیوں کے سامنے نہیں لایا گیا۔

علاوہ ازیں مٹہ کے علاقے میں عسکریت پسندوں نے پولیس سٹیشن پر قبضہ کر لیا ہے۔ مٹہ تھانے میں موجود عسکریت پسندوں کے کمانڈر افتخار نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس تھانے میں تیس کے قریب اہلکار موجود تھے جو ان سے بات چیت کے بعد تھانہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور اب عمارت ان کے قبضے میں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے تھانے کے احاطے اور چھت پر قائم مورچوں میں پوزیشنیں سنبھالی ہوئی ہیں اور پولیس سٹیشن میں موجود ہلکے ہتھیار اور ایک بکتربند گاڑی بھی ان کے قبضے میں ہے۔ دریں اثناء خوزہ خیلہ میں بھی مقامی پولیس سٹیشن پر تالے لگا دیے گئے ہیں اور پولیس کا کوئی اہلکار وہاں موجود نہیں ہے۔

یاد رہے کہ عسکریت پسندوں نے جمعہ کو پچاس سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا تھا اور بعد میں انہیں رہا کر دیا تھا۔ اغوا کیے جانے والے اہلکاروں نے کہا تھا کہ یرغمال بناتےہوئے مقامی طالبان نے’ ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں کچھ نہیں کہا جائے گااور اس وعدے کےبعد ہی ہم نے ہتھیار ڈالے‘۔

سوات میں تشدد
تشدد سے عام لوگوں کی نقل مکانی
سواتسوات کا مسئلہ
مقامی سطح پر رابطوں کے فقدان کی شکایت
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
 عسکریت پسندوں کی چندہ مہمسوات میں چندہ مہم
سوات میں عسکریت پسندوں کی مالی مدد
میاں گل اورنگزیب سوات قابو سے باہر
اب اسے میں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا: ولی عہد
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
اہلکار یرغمال
سوات میں فوجی آپریشن پر سوال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد