BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: سکیورٹی اہلکاروں کا اغوا اور رہائی

یرغمال بنائے جانے والے سکیورٹی اہلکار
عسکریت پسند کئی روز سے سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کا دعوی کر رہے تھے
سوات میں عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے جن مزید پچاس اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا دعوی کرتے ہوئے صحافیوں کے سامنے پیش کیا تھا، انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔

چار باغ میں پچاس کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کو صحافیوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے عسکریت پسندوں نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے جمعرات سے لیکر اب تک سو کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہے۔

لیکن چار باغ سے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے اطلاع دی ہے کہ اڑتالیس اہلکاروں کو اب رہا کر دیا گیا ہے جن میں سے کئی اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ علاقے میں چند گھنٹوں کے وقفے کےبعد جھڑپیں پھر شروع ہوگئی ہیں۔

اس سے قبل رفعت االلہ اورکزئی نے یرغمال بنائے گئے اہلکاروں سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ وہ’ ان مسلمانوں بھائیوں سے نہیں لڑنا چاہتے جو شریعت کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق بٹہ کے علاقے میں چار پولیس اہلکاروں نے استعفے دے دئےہیں اور مقامی پولیس کے ذرائع نے اس کی تصدیق بھی کی ہے۔

ادھر سوات کے علماء اکرام اور منتخب نمائندوں پر مشتمل جرگے نے جمعہ کو کسی نامعلوم مقام پر مولانا فضل اللہ کے قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی ۔ جرگے کے ایک رکن سینیٹر راحت حسین نےبی بی سی کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے جرگے کو حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے کچھ مطالبات بھی پیش کیے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اس سے قبل اغوا کیے جانے والے اہلکاروں نے رفعت اللہ اورکزئی سےبات کرتے ہوئے کہا کہ یرغمال بناتےہوئے مقامی طالبان نے’ ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں کچھ نہیں کہا جائے گااور اس وعدے کےبعد ہی ہم نے ہتھیار ڈالے ہیں۔‘

جمعرات کو عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت کی جانب سے ستّر عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعوے کیا گیا۔

مقامی عسکریت پسندوں نے بھی سکیورٹی فورسز کے کچھ اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔

خوازہ خیلہ
مقامی طالبان نے خوازہ خیلہ میں مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے

جمعرات کو سوات میں مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے امام ڈھیری مرکز سے بی بی سی کوٹیلی فون پر بتایا کہ جمعرات کی صبح خوازہ خیلہ کے پہاڑوں میں ان کے ساتھیوں نے سکیورٹی فورسز کو محاصرے میں لیا اور چالیس کے قریب اہلکاروں سے ان کا اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بنا لیا۔

انہوں نے کہا کہ ان میں بعض سکیورٹی اہلکاروں کو ہتھیار نہ ڈالنے پر قتل بھی کر دیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق ان اہلکاروں کو مٹہ کے پہاڑوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سے اتاراگیا تھا۔ سراج الدین نے کہا کہ یرغمال بنائے جانے والے اہلکاروں کو جلد ہی ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔

بی بی سی سے بات کر تےہوئے اعلی سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ خوازہ خیلہ میں فرنٹیئر کور کی ایک چوکی پر حملے کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مینگورہ کے مضافات میں واقع کانجو ایف سی کیمپ سے سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو مارٹرگولوں سے نشانہ بنایا۔ ان دھماکوں کی آوازیں سوات کے صدر مقام مینگورہ میں بھی سنائی دیتی رہیں۔

 چھ دن کے وقفےکے بعد سکیورٹی فورسز کے ساتھ بر سرِ پیکار عسکریت پسندوں کے رہنما مولانا فضل اللہ نے پہلی دفعہ اپنے ایف ایم ریڈیو چینل پر تقریر کی ہے جس میں انہوں نے علاقے میں جاری حکومتی کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ادھر تازہ جھڑپوں کے بعد سوات کے کئی علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا ہے۔ مٹہ سے مینگورہ پہنچنے والے مقامی صحافی جہانزیب نے بتایا کہ مٹہ اور اطراف سے بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رات کو بمباری ہوتی تھی تو بچے چیختے تھے جس کی وجہ سے انہیں مجبوراً تمام خاندان سمیت علاقے سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں کوئی صحافی موجود نہیں اگر ایک دو اخبار نویس وہاں موجود بھی ہیں تو وہ رپورٹنگ نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں حکومت اور عسکریت پسندوں سے خطرہ ہے۔

سوات میں جاری کشیدگی کے پرامن حل کے لیے مقامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں جمعرات کی شام سوات کے مذہبی رہنماؤں کا ایک جرگہ مینگورہ میں منعقد ہوا جس میں علاقے کے منتخب نمائندے بھی شرکت کر رہے ہیں۔

ادھر چھ دن کے وقفےکے بعد سکیورٹی فورسز کے ساتھ بر سرِ پیکار عسکریت پسندوں کے رہنما مولانا فضل اللہ نے پہلی دفعہ اپنے ایف ایم ریڈیو چینل پر تقریر کی ہے جس میں انہوں نے علاقے میں جاری حکومتی کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سوات میں حکومتی کاروائیاں شروع ہونے کے بعد مولانا فضل اللہ کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے تھے اور تاحال روپوش ہیں جبکہ اس دوران ایف ایم چینل پر ان کے نائبین تقریریں کرتے رہے ہیں۔

ادھر ملاکنڈ ڈویژن کے علاقے بٹ خیلہ سے اطلاعات ہیں کہ وہاں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر بم حملے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ پشاور سے باجوڑ ایجنسی جارہا تھا کہ بٹ خیلہ میں ظفر پارک کے قریب سڑک کے کنارے کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے سے تین اہلکار زخمی ہوئے۔

سوات میں غیر ملکی
’ابھی وہ یہاں نہیں آئے مگر آ سکتے ہیں‘
وادی سواتجنگ ریڈیو پر بھی
سوات میں ایف ایم چینلوں کی بھرمار
میاں گل اورنگزیب سوات قابو سے باہر
اب اسے میں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا: ولی عہد
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
بدھاسیاحوں سے خالی سوات
سوات قدرتی مناظر اور نوادرات کے لیے مشہور ہے
گوتم بدھ کا مجسمہبدھا بچ گیا
بدھا کا مجسمہ بم سے اڑانے کی کوشش
اسی بارے میں
سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی
28 October, 2007 | پاکستان
سوات میں لڑائی تھم گئی
26 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد