’اٹھارہ سے زائد شدت پسند ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں دو دن کی غیر سرکاری جنگ بندی ختم ہوگئی ہے اور بدھ کوگن شپ ہیلی کاپٹروں نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر دوبارہ بمباری کی ہے جس میں فوج کے ترجمان کے مطابق اٹھارہ سے تیس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل مقامی طالبان نے بدھ کے حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل ارشد وحید نے بتایا کہ مبینہ طالبان علاقے میں عام لوگوں کو ہراساں کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کو مجبوراً سکیورٹی فورسز کو مٹہ کے علاقے میں کارروائی کرنا پڑی جس دوران اٹھارہ سے زائد شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے۔ اس سے قبل عسکریت پسندوں کے ایک کمانڈر مولوی شاہ دوران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ تازہ بمباری میں مٹہ کے علاقے بیدرہ میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک جبکہ پیر کلی میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق بدھ کی دوپہر تقریباً ایک بجے دو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے تحصیل مٹہ کے بریم پل اور آس پاس کے علاقوں میں واقع مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین کا کہنا ہے کہ حالیہ بمباری کے بعد وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کے بقول طالبان اب بھی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ابھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ سوات میں غیر سرکاری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں عام لوگوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیاہے اور علاقے سے لوگوں کے محفوظ مقامامات کی طرف منتقل ہونے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ کئی دنوں کے دوران تحصیل مٹہ، منگلور، چہارباغ، کوزہ بانڈہ اور دیگر علاقوں سے سینکڑوں افراد علاقہ کر چھوڑ چلے گئے ہیں۔ سوات کے ڈی سی او ارشد مجید نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے بے گھر خاندانوں کو بسانے کے لیے مینگورہ سے تقریباً تیس کلومیٹر مغرب کی جانب واقع بری کوٹ کے مقام پر پانچ ہزار افراد کے لیے ایک خیمہ بستی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں پر لوگوں کو ضروریات زندگی بھی مہیا کی جائیں گی۔
مینگورہ کے مغرب میں طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں بدھ کے روز بھی کئی مقامات پر طالبان نے ناکے لگائے ہوئے ہیں جو ہر آنے جانے والوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ منگل کو سوات میں منعقد ہونے والے آل پارٹیز کانفرنس میں فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے ایک سات رکنی جرگہ تشکیل دیا گیا تھا اور یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ حالیہ جنگ بندی کو برقرار رکھ کر بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ واضح رہے کہ ضلع سوات میں گزشتہ جمعہ کو مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس میں حکومت کے مطابق دوشہریوں، سولہ سکیورٹی اہلکاروں اور دس مشتبہ شدت پسندوں سمیت مجموعی طور اٹھائیسں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں سوات:عارضی جنگ بندی کا اعلان29 October, 2007 | پاکستان سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی28 October, 2007 | پاکستان جمعہ کی لڑائی کے بعدسوات پر سکون27 October, 2007 | پاکستان سوات میں تجارتی سرگرمیاں متاثر27 October, 2007 | پاکستان سوات میں لڑائی تھم گئی26 October, 2007 | پاکستان سوات: عینی شاہد ین نے کیا دیکھا25 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||