سوات میں مزید ہلاکتوں کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری ہے اور حکومتی دعوؤں کے مطابق بدھ کی رات سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں مزید ستّر عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ تاہم عسکریت پسندوں نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے صرف ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں بھی گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے ہیں جن کی بمباری کے نتیجے میں 70 عسکریت پسند مارے گئے تاہم فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اس سے قبل صوبہ سرحد کے سیکرٹری داخلہ بادشاہ گل وزیر نے دعوٰی کیا تھا کہ جھڑپوں میں مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے ایک اہم ساتھی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کی صبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بادشاہ گل وزیر نے بتایا کہ بدھ کی رات سوات کے علاقوں خوازہ خیلہ اور کبل میں سکیورٹی فورسز اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ان کے مطابق پندرہ سے اٹھارہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد معلوم کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کے بقول مسلح افراد اپنے ساتھیوں کی لاشیں علاقے سے لے جاتے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ جھڑپوں میں مولانا فضل اللہ کے ایک اہم ساتھی طارق بھی ہلاک ہوئے۔ سیکرٹری داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مینگورہ میں جمعرات سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے ایک میڈیا سنٹر کھولا جا رہا ہے جہاں سے انہیں علاقے سے متعلق تمام تر معلومات فراہم کی جائیں گی۔ ادھر مولانا فضل اللہ کے نائب شاہ دوران اوران کے ترجمان مولانا سراج الدین نے تازہ جھڑپوں میں اپنے کسی ساتھی کی ہلاکت کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات لڑائی میں ایک عام شہری مارا گیا ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔
ان سے جب سیکرٹری داخلہ اور فوجی ترجمان کے ہلاکتوں کے حوالے سے دعوؤں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’یہ افسران تو اپنے بڑے بڑے بنگلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ان کو کیا معلوم کہ سوات میں کیا ہو رہا ہے ، ان کا کام توصرف یہی ہے کہ عوام اور فوج کو آپس میں لڑایا جائے اور اس کی آڑ میں امریکہ کو خوش کریں اور ان سے ڈالر وصول کریں‘۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح چار بجے سے امام ڈھیری مرکز پر سکیورٹی فورسز نے تین مختلف اطراف سے مارٹر گن اور توپ خانے سے فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے جو ان کے مطابق تاحال جاری ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں دو دن کی غیر سرکاری جنگ بندی بدھ کو ختم ہوگئی تھی اورگن شپ ہیلی کاپٹروں نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر دوبارہ بمباری کی۔ اس سے قبل گزشتہ شام پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل ارشد وحید نے کہا تھا کہ مبینہ طالبان علاقے میں عام لوگوں کو ہراساں کر رہے تھےجس پر مجبوراً سکیورٹی فورسز کو مٹہ کے علاقے میں کارروائی کرنا پڑی جس میں ان کے مطابق اٹھارہ سے زائد شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ ادھر سوات میں غیر سرکاری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں عام لوگوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیاہے اور علاقے سے لوگوں کے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ کئی دنوں کے دوران تحصیل مٹہ، منگلور، چہار باغ، کوزہ بانڈہ اور دیگر علاقوں سے سینکڑوں افراد علاقہ چھوڑ چلے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں سوات:عارضی جنگ بندی کا اعلان29 October, 2007 | پاکستان سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی28 October, 2007 | پاکستان جمعہ کی لڑائی کے بعدسوات پر سکون27 October, 2007 | پاکستان سوات میں تجارتی سرگرمیاں متاثر27 October, 2007 | پاکستان سوات میں لڑائی تھم گئی26 October, 2007 | پاکستان سوات: عینی شاہد ین نے کیا دیکھا25 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||