BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 04:22 GMT 09:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طاقت کی بجائے مذاکرات کا مطالبہ

تحریک نفاذِ شریعت محمدی
حکومت شدت پسندوں کے مقابلے عوام تک اپنا موقف پہنچانے کی جنگ ہار گئی: ایک رائے
پاکستان کے صوبۂ سرحد کے ضلع سوات میں حالات کی کشیدگی پر حزب مخالف کی بیشتر بڑی جماعتوں کو تشویش ہے اور شدت پسندوں کے خلاف ان کا ملا جُلا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

بعض جماعتیں شدت پسندوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال میں تاخیر پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں تو کچھ کا خیال ہے کہ حکومت طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔

سوات میں فوجی کارروائی سے برآمد ہونے والے نتائج کے بارے میں پریشان تو اکثر جماعتیں ہیں لیکن اس کے نتائج کے بارے میں خدشات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

سوات کے حالات کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو خدشہ ہے کہ یہ عام انتخابات ملتوی کرنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔ اس بارے میں فرحت اللہ بابر سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سوات میں حالات کافی عرصے سے خراب رہے ہیں لیکن حکومت نے اپنی آنکھیں بند رکھیں۔

فرحت اللہ بابر
انہوں نے بتایا کہ جب مولانا فضل اللہ کے سُسر مولانا صوفی محمد نے انیس سو چرانوے میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ریاستی رِٹ کو چیلنج کیا تھا تو بینظیر بھٹو وسطیٰ ایشیا کے دورے پر تھیں اور انہوں نے وہاں سے فون کرکے نصیر اللہ بابر کو کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

مسٹر بابر نے کہا کہ ان کی حکومت کی فوری کارروائی کے نتیجے میں انتہا پسندوں کے حوصلہ شکنی ہوئی تھی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ صدر جنرل پرویزمشرف کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کو شہہ ملی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت انتخابات کو ملتوی کرنے کے لیے سوات اور دیگر علاقوں میں فوجی کارروائی کا بہانہ بھی بنا سکتی ہے۔

کارروائی کیوں اور کب؟
 جب صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی تو وہ آپریشن کی مخالفت کر رہی تھی اور جب وہ ختم ہوئی ہے تو کارروائی کے لیے فورسز کو وہاں تعینات کردیا گیا۔
وفاقی حکومت
بعض سرکردہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ایک رہنما لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ سوات میں فوجی کارروائی کا مقصد امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھانا اور وہاں مذہبی جماعتوں کا اثر رسوخ ختم کر کے سیکولر قوتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

جب ان سے پوچھا کہ سوات میں شدت پسند جب اپنی عدالتیں لگا کر لوگوں کو پھانسیاں دیں تو ایسے میں آخر حکومت کیا کرے تو انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور انٹیلیجنس ادارے شدت پسندوں کی سرپرستی کرنا چھوڑ دیں تو معاملہ خود بخود حل ہوجائے گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ انٹیلیجنس ادارے شدت پسندوں کو پہلے منظم کرتے ہیں اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب وہ ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں تو پھر بمباری کر کے انہیں ختم کرتے ہیں۔ لیکن ان کے بقول اب کوئی بھی حکومت ایسی پالیسی زیادہ دیر جاری نہیں رکھ پائے گی۔

لیاقت بلوچ

جب ان سے پوچھا کہ وہ کس بنا پر انٹیلیجنس اداروں پر شدت پسندوں کو منظم کرنے اور شرپسندی کو ہوا دینے کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے صوبۂ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم درانی کی سرکاری رہائش گاہ میں انٹیلیجنس بیورو کے ایک ملازم کی جانب سے مبینہ طور پر بم نصب کرنے کی مثال دی۔ ان کے مطابق یہ وہی انٹیلیجنس ادارہ ہے جس پر بینظیر بھٹو نے اب اپنے خیر مقدمی جلوس پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی ایک اور اہم جماعت مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کا رد عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اگر صدر مشرف مستعفی ہوجائیں تو ستر فیصد دہشتگردی ختم ہوجائے گی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ شدت پسندی کو صدر جنرل پرویز مشرف مغرب کے سامنے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ایک کارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لال مسجد کی مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے انہیں ڈھیل دی گئی اور بعد میں ماردیا گیا اور دنیا کو بتایا کہ شدت پسند اسلام آباد تک پہنچ گئے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے ان کا (مشرف) اقتدار میں رہنا ضروری ہے۔

احسن اقبال نے سوات آپریشن کے نتائج کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور انتخابات ملتوی کرنا کا جواز پیدا کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

سوات میں فوجی کارروائی میں تاخیر کے بارے میں وفاقی حکومت کہتی رہی ہے کہ جب صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی تو وہ آپریشن کی مخالفت کر رہی تھی اور جب وہ ختم ہوئی ہے تو کارروائی کے لیے فورسز کو وہاں تعینات کردیا گیا۔

اس بارے میں حکومت کا مزید موقف جاننے کے لیے جب سیاسی امور کے وفاقی وزیر امیر مقام اور وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔

نور پورنور پور کی شریعت
خیرپور کے ایک گاؤں میں شریعت کا نفاذ
وادی سواتجنگ ریڈیو پر بھی
سوات میں ایف ایم چینلوں کی بھرمار
میاں گل اورنگزیب سوات قابو سے باہر
اب اسے میں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا: ولی عہد
اسی بارے میں
سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی
28 October, 2007 | پاکستان
سوات میں لڑائی تھم گئی
26 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد