گمبٹ کا شرعی گاؤں، نور پور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور کی تحصیل گمبٹ کے قریب ایک مولوی نے اپنے گاؤں میں خود ساختہ شریعت نافذ کر دی ہے۔ درگاہ عالیہ نورپور نامی گاؤں کے بزرگ خواجہ حضور احمد اپنے گاؤں کو اپنی طرز کی شریعت کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ان کا دعوٰی ہے کہ پاکستان بھر میں ان کا گاؤں وہ واحد جگہ ہے جہاں پرامن شریعت نافذ ہے۔ نور پور نامی گاؤں میں بےنمازی اور بغیر داڑھی والے افراد کے قیام پر کئی برس سے پابندی ہے جبکہ گاؤں میں ٹی وی، ریڈیو اور اخبار کے ساتھ سگریٹ، پان کا داخلہ منوع ہےاور گھر میں کتے رکھنے پر پابندی ہے۔ نور پور کے تمام لوگ سر پر پگڑی باندھنے اور پانچ وقت نماز ادا کرنےکے پابند ہیں ۔نورپور کےلوگ عورتوں کے پردے کے سخت حامی ہیں اور نورپور میں دس سال کی عمر سے لڑکیوں کا پردہ کرنا لازم ہے۔ قریباً ایک سو پچاس گھروں پر مشتمل یہ گاؤں علاقے میں منفرد حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے گاؤں و دیہاتوں کے لوگ نورپور کے لوگوں کو عرف عام میں ’فقیر‘ کہ کر بلاتے ہیں۔ نور پور گاؤں کے سربراہ حضور احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی طرز زندگی یا اپنی شریعت دوسرے لوگوں پر زبردستی نافذ کرنے کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’شریعت محبت کا مسئلہ ہے اگر کوئی خوشی سے دعوت قبول کر لے تو ٹھیک ورنہ کسی کےاوپر جبر نہیں‘۔
ان سے جب لال مسجد اور سوات کے مذہبی افراد کی جانب سے شریعت کے نفاذ کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا وہ کسی لال ،پیلی یا کالی مسجد کو نہیں جانتے ۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ’ہم نے اپنے دل پر صرف اللہ کا نام پکا لکھ لیا ہے اور کوئی نام ہمیں یاد بھی نہیں۔ سارا دن اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں سیاست نہیں‘۔ نور پور کی مسجد کے وسیع احاطے میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے معتقدین کی بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے۔ نور پور کے معتقدین کےاس ہجوم میں لاہور کے ایک نوجوان محمد عظیم میاں سے ملاقات ہوئی جو پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجنیئر ہیں مگر نورپور کے معتقد ہیں اور سال میں بارہ مرتبہ نور پور کا چکر ضرور لگاتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لاہور چھوڑ کر نور پور کے شرعی ماحول میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہونا چاہتے ہیں مگر انہیں پیر صاحب نے لاہور میں تبلیغ کرنے کی وجہ سے نور پور میں رہنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی خواتین کو بھی نورپور میں شریعت کے احکامات کی پاسداری سیکھنے کی خاطر ساتھ لاتے ہیں۔
نور پور کی خود ساختہ شریعت کے پابند لوگوں کے لیے بازار سے کئی اشیاء خرید نے اور استعمال کرنے پر پابندی ہے۔ نور پور کے ایک باسی حلیم اللہ شیخ کے مطابق وہ پیپسی اور کوکولا سمیت تمام مشروبات سے پرہیز کرتے ہیں اور نور پور میں اپنا گھی اور تیل خود تیار کرتے ہیں کیونکہ ان کی سوچ کےمطابق بازاری اشیاء کئی ناپاک اور بے وضو ہاتھوں سے ہوتی ہوئی ان کے پاس پہنچتی ہیں۔ ان سے اجتناب کا واحد ذریعہ ان کے مطابق احتیاط ہے ۔ سندھ کے ترقی پسند شاعر مختار ملک کےمطابق سندھ اور ضلع خیرپور صوفی اور لبرل سوچ رکھنے والے لوگوں کا علاقہ ہے۔ نورپور ایک چھوٹا سا اور بےضرر گاؤں ہے جس سے فی الوقت عوامی اور صوفیانہ انداز زندگی پر کوئی برے اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں تاہم انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر آئندہ سندھ کے اندر نور پور جیسے گاؤں بننے کا سلسلہ شروع ہوا تو سندھ کا ثقافتی بگاڑ شروع ہونے اور انتہا پسندی بڑھنے کے خدشات ہیں ۔ دوسری جانب نور پور کے گادی نشین حضور احمد کا کہنا تھا کہ ان کے معتقدین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ یہ ان کے خاندان کی تسیری نسل ہے ۔ انہوں نے پاکستان کے دیگر شہروں سے آنے والے معتقدین کی سفری مشکلات کو آسان کرنےکی غرض سے قومی شاہراہ پر روہڑی بائی پاس کےقریب ایک پلاٹ حاصل کر لیا ہے جہاں نیا نورپور تعمیر کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں سوات: ’تبلیغی ریڈیو چلتا رہے‘22 May, 2007 | پاکستان سوات شدت پسندوں کا فرنٹ لائن کیسے بنا؟26 October, 2007 | پاکستان ابھی غیر ملکی نہیں ہیں، مگر آ سکتے ہیں31 October, 2007 | پاکستان لال مسجد اور میڈیا: شہید کون؟10 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||