رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مٹہ |  |
 | | | پچاس سکیورٹی اہلکاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے رہا کردیا گیا |
سوات میں سرگرمِ عمل عسکریت پسندوں نے مزید ایک سو سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا ہے تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ادھر مٹہ کے علاقے میں عسکریت پسندوں نے پولیس سٹیشن پر قبضہ کر لیا ہے۔ مٹہ تھانے میں موجود عسکریت پسندوں کے کمانڈر افتخار نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس تھانے میں تیس کے قریب اہلکار موجود تھے جو ان سے بات چیت کے بعد تھانہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور اب عمارت ان کے قبضے میں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے تھانے کے احاطے اور چھت رپ قائم مورچوں میں پوزیشنیں سنبھالی ہوئی ہیں اور پولیس سٹیشن میں موجود ہلکے ہتھیار اور ایک بکتربند گاڑی بھی ان کے قبضے میں ہے۔ دریں اثناء خوزہ خیلہ میں بھی مقامی پولیس سٹیشن پر تالے لگا دیے گئے ہیں اور پولیس کا کوئی اہلکار وہاں موجود نہیں ہے۔ اس سے قبل جمعہ کی شام کو مقامی عالم مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے ذرائع ابلاغ کو فون کر کے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے مزید ایک سو سکیورٹی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق بیس سکیورٹی اہلکاروں کو مٹہ کے مقام پر پولیس اسٹیشن سے یرغمال بنا لیا گیا جبکہ 80 سکیورٹی اہلکاروں کو ایک مقامی ٹی بی مرکز سے قبضے میں لیا گیا۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب علاقے میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں تاہم کسی کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ عسکریت پسندوں نے جمعہ کو پچاس سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا تھا اور بعد میں انہیں رہا کر دیا تھا۔ اغوا کیے جانے والے اہلکاروں نے کہا تھا کہ یرغمال بناتےہوئے مقامی طالبان نے’ ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں کچھ نہیں کہا جائے گااور اس وعدے کےبعد ہی ہم نے ہتھیار ڈالے‘۔ ادھر سوات کے علماء اکرام اور منتخب نمائندوں پر مشتمل جرگے نے جمعہ کو کسی نامعلوم مقام پر مولانا فضل اللہ کے قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی ۔ جرگے کے ایک رکن سینیٹر راحت حسین نےبی بی سی کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے جرگے کو حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے کچھ مطالبات بھی پیش کیے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ |