جنگجوگروہوں کا مضبوط نیٹ ورک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں سکیورٹی فورسز کے خلاف مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح ساتھیوں کے علاوہ بظاہر مقامی طالبان کے کئی گروپ بھی سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ مقامی عسکریت پسندوں کے ترجمان سراج الدین ان تمام جنگجوؤں کو طالبان کا نام دے کر انہیں مولانا فضل اللہ کے زیر کمان بتاتے ہیں تاہم عسکریت پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں کا دورہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر علاقے کا الگ الگ کمانڈر ہے اور ان میں بعض سخت گیر دیکھائی دیتے ہیں اور بعض نرم مزاج۔ سوات کے صدر مقام مینگورہ کے مشرق میں چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چار باغ سے عسکریت پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں کا اغاز ہوتا ہے۔ یہ علاقہ مشہور پرفضا مقام فضاگٹ کے نہایت قریب واقع ہے جہاں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹیں اور جنگجوؤں کے زیر کنٹرول علاقے اتنے قریب قریب واقع ہیں کہ اگر فضاگٹ میں کسی اونچی جگہ کھڑا ہوکر دیکھا جائے تو عسکریت پسند قریب ہی ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے مسلح دکھائی دیتے ہیں۔ چار باغ ، کوزہ اور بارہ بانڈے میں سڑک کے کنارے کھڑے جنگجو زیادہ سخت گیر نظر نہیں آتے۔ اگرچہ ان میں بھی بعض نے چہروں پر نقاب تو چڑھا رکھے ہیں لیکن ان سے بات کر کے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا تعلق مینگورہ یا قریبی علاقوں سے ہے۔
ان کے چہروں اور ہاتھوں میں لیے ہتھیاروں سے بھی یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ یہ مسلح افراد زیادہ تر مقامی لوگ ہیں جو یا تو مذہبی جذبے کے تحت مولانا فضل اللہ کے قافلے میں شامل ہوئے ہیں یا شاہد طالبان کی طرف سے علاقے کا کنٹرول سنھبالنے کے بعد گھر سے بندوق اٹھاکر ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔ ان میں بعض افراد ڈبل اور سنگل بیرل بندوقوں جیسے روایتی ہتھیاروں سے بھی مسلح ہیں جنہیں شدت پسند عام طور پر استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی یہ جنگجو زیادہ تربیت یافتہ نظر آتے ہیں۔ خوازہ خیلہ تحصیل میں بھی پولیس سٹیشن اور بازار میں سڑک کے کنارے کھڑے جنگجوؤں میں بھی مقامی لوگوں کی تعداد زیادہ نظر آئی۔ ان میں چہرے پر نقاب لگائے ہوئے مسلح عسکریت پسند ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرنے سے گریز کرتے رہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں جو سوات میں کشیدگی کے آغاز پر ہی یہاں پہنچے تھے۔ تاہم مقامی طالبان اس کی تردید کرتے ہیں۔ مٹہ تحصیل میں پولیس سٹیشن کے عمارت کے اردگرد اور اندر کھڑے مسلح عسکریت پسند دیگر علاقوں کے جنگجوؤں سے مختلف نظر آئے۔ ان میں نقاب پوش بھی تھے اور بغیر نقاب کے بھی۔ ان کے ہاتھوں میں واکی ٹاکی بھی تھے جس پر وہ لمحہ بہ لمحہ مختلف کوڈ ناموں سے پیغامات وصول اور روانہ کرتے رہے۔ ان کے ہاتھوں میں بھاری اور خود کار ہتھیار بھی تھے۔ یہ جنگجو جس انداز سے وہاں پوزیشین سنبھالے ہوئے تھے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں۔
ان کے کمانڈر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملنے سے صاف انکار کیا بلکہ اپنے کچھ ساتھیوں کو ہدایت کی کہ میڈیا کے نمائندے کسی شخص کی تصویر نہ بنائیں۔ طالبان کے یہ جنگجو دیگر علاقوں کے مسلح افراد کے مقابلے میں سخت مزاج معلوم ہوتے تھے۔ ان میں بعض نے درائع ابلاغ کے کچھ نمائندوں سے کیمرے اور ریکارڈنگ آلات چھیننے کی کوشش کی تاہم کمانڈر سے بات کرنے پر وہ پیچھے ہٹ گئے۔ اگرچہ طالبان کے یہ گروپ الگ الگ نظر تو اتے ہیں لیکن ان کا آپس میں مضبوط رابطہ دکھائی دیتا ہے اور یہ ’ نیٹ ورک‘ کی شکل میں کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چار باغ سے لیکر خوازہ خیلہ، مٹہ، کبل اور کوزہ بانڈے تک پھیلے ہوئے طالبان کے زیر کنٹرول ان علاقوں میں سڑک پر کہیں بھی بد نظمی نظر نہیں آتی۔ ہر چیک پوسٹ پر کھڑے مسلح افراد خاصے مستعد اور مقامی لوگوں سے خندہ پیشانی سے بات کرتے ہوئے نظر آئے۔ بار بار درخواست پر ایک جنگجو نے صرف اتنا بتایا کہ ہر علاقے کا کمانڈر دن رات ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اگر ایک اپنی جگہ موجود نہیں تو اس کا معاون کام کرتا ہے۔ تاہم یہ کمانڈر نظر نہیں اتے اور نہ ہی ان کے ٹھکانوں کے بارے میں کسی کو معلوم ہے۔ |
اسی بارے میں ’یرغمالوں کو نقصان نہ پہنچائیں‘11 November, 2007 | پاکستان سوات: میجر سمیت سات اغواء10 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی قافلے پر بم حملے09 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان سوات میں فوجی آپریشن پر سوال03 November, 2007 | پاکستان ’سکیورٹی اہلکار علاقہ چھوڑ گئے‘03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||