رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | سوات میں عسکریت پسندوں نے پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں کو اغو کر لیا تھا |
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی طالبان نے جمعرات کے روز حراست میں لیے جانے والے سیکورٹی فورسز کے ساٹھ اہلکاروں کو غیرمشروط طورپر آزاد کردیا ہے۔ سوات میں مقامی عسکریت پسندوں کے ترجمان سراج الدین نے آج صبح بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ جمعرات کے روز مٹہ تحصیل کے علاقے دروش خیلہ میں قائم فرنٹیر کانسٹبلری کی ایک پوسٹ پر تعینات ساٹھ اہلکاروں نے مبینہ طورپر ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو طالبان کے حوالے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے کئی گھنٹوں کے کامیاب مذاکرات کے بعد ایک معاہدے کے تحت اپنا اسلحہ مقامی جنگجوؤں کے حوالے کر دیا تھا۔ ان کے بقول اہلکاروں نے خود ’مجاہدین‘ سے ہتھیار ڈالنے کے لئے رابط کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق ایف سی اہلکاروں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ہتھیار ڈالنے کے بعد انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا بلکہ انہیں گھروں تک بحفاظت پہنچا دیا جائے گا۔سراج الدین نے مزید بتایا کہ ایف سی اہلکاروں کو چند گھنٹوں تک تحویل میں رکھنے کے بعد رات گئے آزاد کیا گیا۔ ان کے مطابق اہلکاروں کو دو ٹرکوں میں بٹھاکر بنوں اور پشاور روانہ کر دیا گیا جبکہ ہر اہلکار کو ایک ہزار ہزار روپے سفری خرچ بھی دیا گیا۔ سوات میں سرکاری ذرائع نے بھی ایف سی اہلکاروں کے ہتھیار ڈالنے کے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والے اہلکاروں میں اکثریت دو ماہ کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے تھے۔ تاہم سرکاری اہلکار نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا۔ سوات میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے دو سو سے زائد اہلکاروں نے مقامی طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔ ان میں فرنٹیئر کور کے وہ اڑتالیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں تقریباً ایک ہفتہ قبل چارباغ کے علاقے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ یاد رہے کے سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف حکومتی کاروائی شروع ہونے کے کچھ روز بعد مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکاروں کو گلہ کاٹ کر ہلاک کیا تھا۔ ادھر دوسری طرف سوات میں گزشتہ تین دنوں سے حالات پرسکون ہیں اور کسی علاقے سے فائرنگ کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔ تاہم طالبان کے ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی اہلکار ان کے حامیوں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوات میں دو ہفتے قبل سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جن میں اب تک کئی افراد مارے جاچکے ہیں۔ |