سوات:انتظامی کنٹرول فوج کے پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوج نے انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینے کے ساتھ ہی مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی ہے جس میں تین عسکریت پسندوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے پیر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج نے تمام علاقے کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہاں تعینات سکیورٹی فورسز کو مقامی طالبان کے خلاف ممکنہ کاروائی کےلیے تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو مٹہ تحصیل کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے کچھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں ان کے مطابق ہلاک یا زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات نہیں ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں طالبان کے خلاف کاورائی مقامی انتظامیہ کے مشورے سے کی جائیگی۔ ادھر سوات سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چھ دن کی غیر اعلانیہ جنگ بندی کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹروں نے ایک بار پھر پیر کی صبح مٹہ کے علاقے میں طالبان کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا ہے جس میں تین جنگجوؤں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کا یہ قافلہ کمانڈر خان خطاب کی قیادت میں سڑک پر جا رہا تھا کہ اس پر فضا سے بمباری کی گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے خوازہ خیلہ کے علاوہ پاماخیلہ اور سم بٹ کے علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی تاہم اس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ دریں اثناء سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے کہا ہے کہ فوجی آپریشن کی صورت میں وہ بھرپور مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ لڑائی میں فوج کا مقابلہ نہ کر سکے تو گوریلا کارروائیاں کریں گے۔ مقامی صحافی شیرین زادہ کانجو کے مطابق جن علاقوں کے لوگ نقل مکانی کے بعد اپنے گھروں کو واپس واپس آئے تھے وہاں پیر کی بمباری کے بعد لوگ دوبارہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی سوچ رہے ہیں۔ تازہ بمباری سے علاقے میں ایک بار پھر سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ دوسری طرف سوات کے تین تحصیلوں خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل کے کچھ علاقوں پر طالبان کا قبضہ بدستور برقرار ہے اور وہاں پر قائم تقریباً تمام پولیس تھانوں پر عسکریت پسندوں کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد چار باغ، گلی باغ، خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل کے کچھ علاقوں میں سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں پر بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں۔ ادھر صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی نے کہا ہے کہ سوات میں تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پشاور میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اگر بات چیت کا سلسلہ ناکام ہوا تو پھر حکومت وہاں امن وامان کی بحالی کےلئے دیگر تجاویز پر غور کرےگی۔ سوات میں تقریباً تین ہفتے قبل سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامیوں اور سرکاری فورسز کے مابین شدید جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔ |
اسی بارے میں جنگجوگروہوں کا مضبوط نیٹ ورک11 November, 2007 | پاکستان ’یرغمالوں کو نقصان نہ پہنچائیں‘11 November, 2007 | پاکستان سوات: میجر سمیت سات اغواء10 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی قافلے پر بم حملے09 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان سوات میں فوجی آپریشن پر سوال03 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||