BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 November, 2007, 18:10 GMT 23:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالاکنڈ ڈویژن: کچھ علاقوں میں کرفیو

سوات سکیورٹی اہلکار(فائل فوٹو)
عسکریت پسندوں نے عوام کو خوفزدہ کردیا ہے: کور کمانڈر
پاکستان کے صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں منگل کی رات سے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ شانگلہ ضلع میں ایک تھانے اور ایک ریسٹ ہاؤس پر مقامی طالبان کے قبضہ کر لینے کی اطلاعات ہیں۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرفیو کے نفاذ کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان علاقوں میں رات بارہ بجے سے دن بارہ بجے تک کا کرفیو لگایا گیا ہے۔

ادھر سوات کے ملحقہ ضلع شانگلہ سے مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ منگل کی رات مبینہ مقامی طالبان نے شانگلہ ٹاپ میں محمکۂ جنگلات کے ایک ریسٹ ہاؤس اور الپوری کے مقام پر ایک تھانے پر قبضہ کر لیا ہے۔

گزشتہ روز فوج کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی کمانڈ اپنے ہاتھوں میں لینے کے بعد منگل کو دوسرے روز بھی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھی جس میں ایک خاتون کی ہلاک اور سات افراد کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس طرح مجموعی طورپر پیر سے اب تک سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے تحصیل کبل کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس میں ان کے بقول کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ تاہم مقامی اور طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک خاتون ہلاک اور چار عام شہریوں سمیت دو عسکریت پسند زخمی ہوئے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار انتخاب امیر نے بتایا ہے کہ پشاور کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد مسعود اسلم نے کہا ہے کہ سوات میں بحالی امن کے لیے فوج کا استعمال محتاط انداز سے کیا جائےگا کیونکہ طاقت کے بے دریغ استعمال سے عام شہریوں کے نقصان کا اندیشہ ہے جس سے بچنے کے لیے عسکریت پسندوں کی نشاندہی کرکے اُن پر حملے کیے جائیں گے۔

محتاط آپریشن
 ’سوات گنجان آباد علاقہ ہے جہاں طاقت کے بیدریغ استعمال سے عام شہریوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اس طرح بڑی تباہی آسکتی ہے۔ اس کے بجائے فوج کا محتاط انداز میں استعمال کیا جائے گا
کور کمانڈر

منگل کی شام صحافیوں سے صوبہ سرحد کی بگڑتی ہوتی مجموعی صورتِِحال پر بالعموم اور سوات میں امن و عامہ پر بالخصوص بات کرتے ہوئے کور کمانڈر نے کہا کہ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ طاقت کے کم سے کم استعال کے ذریعے سوات میں امن بحال کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ’سوات گنجان آباد علاقہ ہے جہاں طاقت کے بیدریغ استعمال سے عام شہریوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اس طرح بڑی تباہی آسکتی ہے۔ اس کے بجائے فوج کا محتاط انداز میں استعمال کیا جائے گا۔‘

سوات میں امن کی بحالی کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وہاں عوام تعاون نہیں کررہے ۔ ’وہاں کوئی معلومات دینے کے لیے تیار نہیں کیونکہ عسکریت پسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے گلے کاٹ کر عوام کو خوفزدہ کردیا ہے۔‘

سوات میں درپیش امن و عامہ کی صورتِحال کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ یہ گذشتہ صوبائی حکومت کی پانچ سالہ حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے ۔’ مولانا فضل اُللہ کا اس طرح حکومت کے اختیار کو نا ماننا ایک دو روز کی بات نہیں بلکہ سابقہ صوبائی حکومت اپنے ووٹروں کو ناراض نہ کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت فضل اللہ پر ہاتھ نہیں ڈال رہی تھی۔‘

ادھر سوات میں منگل کو گن شپ ہیلی کاپٹر سارا دن فضا میں عسکریت پسندوں کے علاقوں پر وقفوں وقفوں سے گشت کرتے رہے۔ تاہم مقامی جنگجوؤں کی طرف سے کل سے سکیورٹی فورسز کے خلاف علاقے میں کسی قسم کی کاروائی کی اطلاعات نہیں ہے۔

پیر کی رات سکیورٹی فورسز کی شدید گولہ بھاری سے یونین کونسل کانجو کے حدود میں کئی توپ کے گولے شہری ابادی پر گرے ہیں جس سے دم غار، امام ڈھیری، کوزہ بانڈہ اور دیگر قریبی علاقوں میں واقع کئی گھروں اور سکولوں کے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

نقل مکانی جاری
 سوات میں دو روز سے جاری بمباری اور حملوں کی وجہ سے کئی علاقوں سے لوگوں نے ایک بار پھر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ مٹہ، کبل اور خوازہ خیلہ تحصیلوں سے بچوں اور خواتین سمیت بڑے پیمانے پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوئے ہیں

سوات میں دو روز سے جاری بمباری اور حملوں کی وجہ سے کئی علاقوں سے لوگوں نے ایک بار پھر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ مقامی لوگوں نے سکیورٹی فورسز کی مزید حملوں سے بچنے کےلئے مٹہ، کبل اور خوازہ خیلہ تحصیلوں سے بچوں اور خواتین سمیت بڑے پیمانے پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔

سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے کہا ہے کہ علاقے میں گزشتہ روز سے شروع ہونے والی کاروائیوں کے بعد طالبان کی طرف سے تاحال سکیورٹی فورسز کے خلاف کوئی جوابی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ سوات میں حالات مزید خراب ہوں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ علاقے میں تمام معاملات بات چیت کے عمل کے ذریعے سے طے کئے جائیں۔

 عسکریت پسندوں کی چندہ مہمسوات میں چندہ مہم
سوات میں عسکریت پسندوں کی مالی مدد
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
اہلکار یرغمال
سوات میں فوجی آپریشن پر سوال
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
اسی بارے میں
سوات: میجر سمیت سات اغواء
10 November, 2007 | پاکستان
سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا
09 November, 2007 | پاکستان
سوات میں فوجی آپریشن پر سوال
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد