BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 November, 2007, 22:33 GMT 03:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شانگلہ میں تھانوں پر طالبان کا قبضہ

مالاکنڈ ڈویژن کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے
صوبہ سرحد کے وادی سوات سے ملحقہ ضلع سوات سے اطلاعات ہیں کہ وہاں مبینہ مقامی طالبان نے پولیس تھانوں اور تمام سرکاری عمارتوں پر قبضے کے بعد علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔


پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے شانگلہ میں طالبان کے سرکاری عمارتوں پر قبضوں کی خبر کی تصدیق کی تاہم انہوں نے اس سلسلے میں تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

میجر جنرل وحید ارشد نے کہا کہ طالبان کی اس کارروائی کی تفصیل مقامی انتظامیہ سے معلوم کریں۔اس سلسلے میں صوبہ سرحد کے سیکرٹری داخلہ بادشاہ گل وزیر سے رابط کیا گیا تو انہوں شانگلہ میں طالبان کے قبضے کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات دینے سے انکار کیا۔

ادھر دوسری طرف سوات میں گزشتہ رات بارہ بجے کے بعد سے کرفیو نافذ ہے۔ بدھ کی صبح مینگورہ بازار اور اردگرد کے علاقوں میں تمام سڑکیں سنسنان ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکار سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔

سوات میں رات کی خاموشی کے بعد آج صبح دس بجے کے بعد ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو اخری اطلاعات انے تک جاری تھا۔

شانگلہ سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل شام تقریباً پندرہ گاڑیوں پر مشتمل عسکریت پسندوں کا ایک قافلہ اچانک شانگلہ کی حدود میں داخل ہوا اور شانگلہ ٹاپ پر قائم پولیس تھانے پر بغیر کسی مزاحمت کے قبضے کے بعد دیگر سرکاری عمارتوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔

بٹاگرام سے شانگلہ پہنچنے والے ایک مقامی صحافی احسان داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ شانگلہ کے صدر مقام الپوری میں قائم پولیس ہیڈ کوارٹرز اور دیگر سرکاری عمارتوں پر مقامی عسکریت پسندوں کا قبضہ ہے جبکہ وہاں موجود تمام پولیس اور سرکاری اہلکار علاقے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

ان کے مطابق کچھ پولیس تھانے تو پولیس اہلکار پہلے ہی خالی کرچکے تھے جبکہ دیگر سرکاری عمارتیں جنگجوؤں کے انے کے بعد خالی ہوگئے۔

سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے ساتھیوں نے شانگلہ جاکر وہاں تمام علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اہلکاروں نے خود دفاتر اور دیگر پولیس تھانے خالی کئے ہیں۔

اس سلسلے میں شانگلہ کے ضلعی رابط افسر اور پولیس افسران سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

سوات کے کچھ تحصیلوں خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل کے کچھ علاقوں کے بعد اب شانگلہ کے کچھ علاقے بھی عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں آگئے ہیں۔

ضلع شانگلہ وفاقی وزیر امیر مقام کا ابائی حلقہ ہے اور سوات سے ملحق واقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد