’شدت پسندوں کو دوبارہ پکڑیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جن افراد کو لال مسجد کے واقعہ کے بعد گرفتار کیا گیا اور پھر عدالت نے جنہیں رہا کردیا وہ بھی سوات میں شدت پسندوں کےساتھ ملکر کارروائیوں میں مصروف ہیں اور قانون نافذ کرنےوالے ادارے ان افراد کی گرفتاری کے لیے سرگرم ہیں۔ منگل کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ سوات میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ جبکہ رینجرز، فرنٹیر کانسٹیبلری اور پولیس فوجی کمان میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد کی نگران حکومت نے سوات میں فوجی آپریشن کے لیے وفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست دی ہے تاکہ حالات معمول پر لائے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ فوج اس سال جولائی سے سوات میں موجود تھی لیکن صوبہ سرحد کی سابقہ حکومت نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست نہیں دی تھی۔
جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ حکومت اس علاقے میں ہر قیمت پر اپنی عمل داری قائم رکھے گی اور شدت پسندوں کو کسی بھی قیمت پر عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی سرحد اکرم درانی نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ وہ سوات میں فوج بھیج دیں لیکن اس ضمن میں انہوں نے حکومت کو باقاعدہ درخواست نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے برطرف کیے گئے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو زبردستی کوئٹہ بھیجنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ابھی اسلام آباد میں ہیں اور ان کے کہیں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کو سات دنوں کے لیے نظر بند کیا گیا ہے اور یہ اقدام حکومت نےان کی سکیورٹی کے لیے اُٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے یہ اطلاعات ملی تھیں کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کی زندگی کو خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے تین ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے متعدد کارکنوں کی رہائی کا عمل جاری ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے افراد جو فوج کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی جبکہ باقی افراد کی بازیابی کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آٹے کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں چیک پوسٹیں قائم کی ہیں اور فرنٹئیر کور اور رینجرز کے اہلکاروں کو ان چیک پوسٹوں پرتعینات کیا گیا ہے۔ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ان اہکاروں نے پیر کے روز سمگلنگ کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے سات لاکھ چونسٹھ ہزار کلو گرام سے زائد آٹا قبضے میں لے لیا۔ |
اسی بارے میں جنگجوگروہوں کا مضبوط نیٹ ورک11 November, 2007 | پاکستان ’یرغمالوں کو نقصان نہ پہنچائیں‘11 November, 2007 | پاکستان سوات: میجر سمیت سات اغواء10 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی قافلے پر بم حملے09 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان سوات میں فوجی آپریشن پر سوال03 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||